قومی زبان

صنم نے جب لب گوہر‌ فشان کھول دیئے

صنم نے جب لب گوہر‌ فشان کھول دیئے صدف کے موج تبسم نے کان کھول دیئے تری نسیم تبسم نے غنچہ ساں دل کے جو عقدے بند تھے آناً فان کھول دیئے سرشک چشم نے کر شہر‌ بند دل کو خراب تمام عشق کے راز نہان کھول دیئے یہ کس کی کاوش مژگاں نے دل سے تا‌ سر چشم ہزار چشمۂ آب روان کھول دیئے چمن چمن ...

مزید پڑھیے

یوں گھر سے محبت کے کیا بھاگ چلے جانا

یوں گھر سے محبت کے کیا بھاگ چلے جانا کچھ اس میں سمجھتا ہے دے آگ چلے جانا تا شہر عدم ہم کو مشکل نظر آتا ہے آلائش ہستی سے بے لاگ چلے جانا کوچے سے ترے گاہے گھر شب کو جو آتا ہوں پھر صبح ہوئے سوتے اٹھ جاگ چلے جانا اس زلف کے افعی نے مارا ہے جسے اس کے اشک آنکھ سے اور منہ سے ہیں جھاگ چلے ...

مزید پڑھیے

مل اس پری سے کیا کیا ہوا دل

مل اس پری سے کیا کیا ہوا دل شیدا ہوا دل رسوا ہوا دل برق تجلی دیکھ اس نگہ کی جوں طور جل کر سرما ہوا دل اس سنگ دل کی مے خوار گی سے خون جگر میں مینا ہوا دل ہیں منقسم یہ خوں بار آنکھیں جن کی بدولت دریا ہوا دل جوش جنوں سے عشق بتاں میں سینا ہوا کوہ صحرا ہوا دل سوزاں ہے از بس داغ ...

مزید پڑھیے

میں جیتے جی تلک رہوں مرہون آپ کا

میں جیتے جی تلک رہوں مرہون آپ کا گر آج قصد کیجیے مجھ سے ملاپ کا میں یہ سمجھ کے دوڑوں ہوں آیا وہ شہسوار کھٹکا سنوں ہوں جب کسی گھوڑے کی ٹاپ کا تم گاؤ اپنے راگ کو اس پاس واعظو مشتاق جو گدھا ہو تمہارے الاپ کا گو دخت رز سے ملنے میں بد ٹھہرے محتسب دینا نہیں دھرانے میں ہم اس کے باپ ...

مزید پڑھیے

آنا ہے تو آ جاؤ یک آن مرا صاحب

آنا ہے تو آ جاؤ یک آن مرا صاحب اک آن کے ہیں ہم بھی مہمان مرا صاحب مدت سے تمہارا میں سو جان سے ہوں عاشق کیوں جان کے ہوتے ہو انجان مرا صاحب غصے ہو اٹھے مجھ پر کیوں تیر و کماں لے کر میں ہونے کو بیٹھا ہوں قربان مرا صاحب ناگاہ صنم یارو مجھ سے جو ملا آ کر مجھ پر یہ خدا کا ہے احسان مرا ...

مزید پڑھیے

تم جانتے ہو کس لئے وہ مجھ سے گیا لڑ

تم جانتے ہو کس لئے وہ مجھ سے گیا لڑ اے ہمدم من اس کے کہیں اور لگی لڑ اس نے شجر دوستی اب دل سے اکھاڑا کہنے سے رقیبوں کے ہے فتنے کی بندھی جڑ اس بت کو کہاں پہنچیں بت آذر کے تراشے ہاتھ اپنے سے تیار کرے جس کو خدا گھڑ دل دوز نگہ یار کی ہوتی ہے مقابل برچھی کی انی سی مرے سینے میں گئی ...

مزید پڑھیے

اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائی

اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائی شیشے میں عجب آن سے جھمکے تھی خدائی عالم میں نشے کے شب مہتاب نے تیرے خورشید سے مکھڑے نے طلسمات دکھائی گو غیر سے ملنے کی قسم کھاتے ہو پیارے چھپتی نہیں وہ بات جو ہو دل سے بنائی واللہ ہمیں عشق کی سب بھول ہوئی چال کافر تری رفتار نے پھر یاد ...

مزید پڑھیے

ادھر وہ بے مروت بے وفا بے رحم قاتل ہے

ادھر وہ بے مروت بے وفا بے رحم قاتل ہے ادھر بے صبر و بے تسکین و بے طاقت مرا دل ہے ادھر صیاد چشم و دام زلف و ناوک مژگاں ادھر پہلو میں دل اک صید لاغر نیم بسمل ہے ادھر اس کو تو میرے نام سے بھی ننگ ہے ہر دم ادھر سینے میں دل مشتاق ہے عاشق ہے مائل ہے ادھر وہ خود پرست عیار ہے مغرور ہے خود ...

مزید پڑھیے

کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطر

کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطر تسبیح توڑ باندھا زنار تیری خاطر گل سینہ چاک بلبل نالاں چمن میں دیکھی آنکھوں کے دکھ سے نرگس بیمار تیری خاطر ابرو کی تو اشارت جس کی طرف کرے تھا چلتی تھی مجھ میں اس میں تلوار تیری خاطر میں جھوٹ سچ بھی یک دم آنسو نہ ان کے پونچھے جو چشم روز و شب ہیں ...

مزید پڑھیے

خانۂ دل کا جو طوائف ہے

خانۂ دل کا جو طوائف ہے قصد بیت الحرم سے خائف ہے آئنہ حسن کے صحیفے کا لوح پرواز ہے صحائف ہے گل رخوں میں لطیفہ گو ہیں ہزار پر وہ گلدستۂ‌ ظرائف ہے ذکر تیرا بہ رب کعبہ صنم ہم کو اوراد ہے وظائف ہے کیا کہوں میں ظفرافتیں اس کی بے سخن معدن ظرائف ہے نشۂ ہوش سے یہ کیفیت عالم کیف پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 427 سے 6203