صنم نے جب لب گوہر فشان کھول دیئے
صنم نے جب لب گوہر فشان کھول دیئے صدف کے موج تبسم نے کان کھول دیئے تری نسیم تبسم نے غنچہ ساں دل کے جو عقدے بند تھے آناً فان کھول دیئے سرشک چشم نے کر شہر بند دل کو خراب تمام عشق کے راز نہان کھول دیئے یہ کس کی کاوش مژگاں نے دل سے تا سر چشم ہزار چشمۂ آب روان کھول دیئے چمن چمن ...