پاؤں زنجیر پرکھنے میں ابھی کچے ہیں
پاؤں زنجیر پرکھنے میں ابھی کچے ہیں یا ترا حکم سمجھنے میں ابھی کچے ہیں پیڑ بے موسمی باتوں کا برا مان گیا ورنہ کچھ پھل ہیں جو چکھنے میں ابھی کچے ہیں ہم سے کیا ہوگی تعلق میں برائی صاحب ہم تو بہتان ہی گھڑنے میں ابھی کچے ہیں اتنے لوگوں میں کوئی ڈھنگ کا وحشی نہ ملا ایک دو ہیں بھی تو ...