قومی زبان

میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گا

میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گا لیکن مری آنکھوں میں تجھے ڈر نہ ملے گا سر پر تو بٹھانے کو ہے تیار زمانہ لیکن ترے رہنے کو یہاں گھر نہ ملے گا جاتی ہے چلی جائے یہ مے خانے کی رونق کم ظرفوں کے ہاتھوں میں تو ساغر نہ ملے گا دنیا کی طلب ہے تو قناعت ہی نہ کرنا قطرے ہی سے خوش ہو تو سمندر ...

مزید پڑھیے

کھل کے ملنے کا سلیقہ آپ کو آتا نہیں

کھل کے ملنے کا سلیقہ آپ کو آتا نہیں اور میرے پاس کوئی چور دروازہ نہیں وہ سمجھتا تھا اسے پا کر ہی میں رہ جاؤں گا اس کو میری پیاس کی شدت کا اندازہ نہیں جا دکھا دنیا کو مجھ کو کیا دکھاتا ہے غرور تو سمندر ہے تو ہے میں تو مگر پیاسا نہیں کوئی بھی دستک کرے آہٹ ہو یا آواز دے میرے ہاتھوں ...

مزید پڑھیے

بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیں

بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیں ایک سے جانے ہم کتنے ہو جاتے ہیں ہم بھی دل کی بات کہاں کہہ پاتے ہیں آپ بھی کچھ کہتے کہتے رہ جاتے ہیں خوشبو اپنے رستہ خود طے کرتی ہے پھول تو ڈالی کے ہو کر رہ جاتے ہیں روز نیا اک قصہ کہنے والے لوگ کہتے کہتے خود قصہ ہو جاتے ہیں کون بچائے گا پھر ...

مزید پڑھیے

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا تو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تری کیا ہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالات کس کے لیے زندہ ہوں بتا بھی نہیں سکتا گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں کے پجاری میں ہوں کہ چراغوں کو ...

مزید پڑھیے

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا ہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتا کبھی لہو سے بھی تاریخ لکھنی پڑتی ہے ہر ایک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا میں اس کی آنکھ کا آنسو نہ بن سکا ورنہ مجھے بھی خاک میں ملنے کا ڈر نہیں ہوتا مجھے تلاش کروگے تو پھر نہ پاؤ گے میں اک صدا ہوں صداؤں کا گھر ...

مزید پڑھیے

اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے

اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے مجھ تک میرے حصے کی دھوپ آنے دے ایک نظر میں کئی زمانے دیکھے تو بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے بابا دنیا جیت کے میں دکھلا دوں گا اپنی نظر سے دور تو مجھ کو جانے دے میں بھی تو اس باغ کا ایک پرندہ ہوں میری ہی آواز میں مجھ کو گانے دے پھر تو یہ اونچا ہی ...

مزید پڑھیے

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا رات مجرم تھی دامن بچا لے گئی دن گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا وہ مرے سامنے ہی گیا اور میں راستے کی طرح دیکھتا رہ گیا جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا آندھیوں کے ارادے تو اچھے نہ تھے یہ دیا ...

مزید پڑھیے

اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے

اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے عجیب دل ہے گروں تو سنبھال لیتا ہے یہ کیسا شخص ہے کتنی ہی اچھی بات کہو کوئی برائی کا پہلو نکال لیتا ہے ڈھلے تو ہوتی ہے کچھ اور احتیاط کی عمر کہ بہتے بہتے یہ دریا اچھال لیتا ہے بڑے بڑوں کی طرح داریاں نہیں چلتیں عروج تیری خبر جب زوال لیتا ہے جب ...

مزید پڑھیے

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں پھر وہی تلخئ حالات مقدر ٹھہری نشے کیسے بھی ہوں کچھ دن میں اتر جاتے ہیں اک جدائی کا وہ لمحہ کہ جو مرتا ہی نہیں لوگ کہتے تھے کہ سب وقت گزر جاتے ہیں گھر کی گرتی ہوئی دیواریں ہی مجھ سے اچھی راستہ چلتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا تم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تک کیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایا اس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا اس چھوٹے زمانے کے بڑے کیسے بنوگے لوگوں کو جب آپس میں لڑانا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 420 سے 6203