قومی زبان

جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے

جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے کوئی اٹھتا ہے اور طوفان کا رخ موڑ دیتا ہے مجھے بے دست و پا کر کے بھی خوف اس کا نہیں جاتا کہیں بھی حادثہ گزرے وہ مجھ سے جوڑ دیتا ہے بچھڑ کے تجھ سے کچھ جانا اگر تو اس قدر جانا وہ مٹی ہوں جسے دریا کنارے چھوڑ دیتا ہے محبت میں ذرا سی بے وفائی تو ...

مزید پڑھیے

تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے

تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے ہم تو وہ ہیں ترے چہرے سے دکھائی دیں گے ہم کو محسوس کیا جائے ہے خوشبو کی طرح ہم کوئی شور نہیں ہیں جو سنائی دیں گے فیصلہ لکھا ہوا رکھا ہے پہلے سے خلاف آپ کیا صاحب عدالت میں صفائی دیں گے پچھلی صف میں ہی سہی ہے تو اسی محفل میں آپ دیکھیں گے تو ہم ...

مزید پڑھیے

تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے

تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے اسی لئے تو تمہیں ہم نظر نہیں آتے محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے یہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے جنہیں سلیقہ ہے تہذیب غم سمجھنے کا انہیں کے رونے میں آنسو نظر نہیں آتے خوشی کی آنکھ میں آنسو کی بھی جگہ رکھنا برے زمانے کبھی پوچھ کر نہیں ...

مزید پڑھیے

تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا

تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا اک تو ہے جو لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتا آنکھوں میں خیالات میں سانسوں میں بسا ہے چاہے بھی تو مجھ سے وہ جدا ہو نہیں سکتا جینا ہے تو یہ جبر بھی سہنا ہی پڑے گا قطرہ ہوں سمندر سے خفا ہو نہیں سکتا گمراہ کئے ہوں گے کئی پھول سے جذبے ایسے تو کوئی راہنما ...

مزید پڑھیے

وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا

وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا مگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتا برے اچھے ہوں جیسے بھی ہوں سب رشتے یہیں کے ہیں کسی کو ساتھ دنیا سے کوئی لے کر نہیں جاتا گھروں کی تربیت کیا آ گئی ٹی وی کے ہاتھوں میں کوئی بچہ اب اپنے باپ کے اوپر نہیں جاتا کھلے تھے شہر میں سو در مگر ...

مزید پڑھیے

مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہے

مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہے اسی لیے تو سمندر پہ رحم آتا ہے وہ اس طرح بھی مری اہمیت گھٹاتا ہے کہ مجھ سے ملنے میں شرطیں بہت لگاتا ہے بچھڑتے وقت کسی آنکھ میں جو آتا ہے تمام عمر وہ آنسو بہت رلاتا ہے کہاں پہنچ گئی دنیا اسے پتہ ہی نہیں جو اب بھی ماضی کے قصے سنائے جاتا ہے اٹھائے ...

مزید پڑھیے

اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلے

اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلے میں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلے کتاب ماضی کے اوراق الٹ کے دیکھ ذرا نہ جانے کون سا صفحہ مڑا ہوا نکلے میں تجھ سے ملتا تو تفصیل میں نہیں جاتا مری طرف سے ترے دل میں جانے کیا نکلے جو دیکھنے میں بہت ہی قریب لگتا ہے اسی کے بارے میں سوچو تو فاصلہ ...

مزید پڑھیے

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے جو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائے کہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے ...

مزید پڑھیے

میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے

میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے وقت پڑنے پہ ہاتھوں سے جاتے رہے بارشیں آئیں اور فیصلہ کر گئیں لوگ ٹوٹی چھتیں آزماتے رہے آنکھیں منظر ہوئیں کان نغمہ ہوئے گھر کے انداز ہی گھر سے جاتے رہے شام آئی تو بچھڑے ہوئے ہم سفر آنسوؤں سے ان آنکھوں میں آتے رہے ننھے بچوں نے چھو بھی لیا چاند ...

مزید پڑھیے

لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا

لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا ہمارے دور میں آنسو زباں نہیں ہوتا جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا بس اک نگاہ مری راہ دیکھتی ہوتی یہ سارا شہر مرا میزباں نہیں ہوتا ترا خیال نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 419 سے 6203