قومی زبان

میں اس پری کا اگر مدعا نہیں سمجھا

میں اس پری کا اگر مدعا نہیں سمجھا سمجھ میں کیا نہیں آیا میں کیا نہیں سمجھا یہی بہت ہے کہ اس بار بھی میں دشمن کو برا سمجھتے ہوئے بھی برا نہیں سمجھا وہ مانتا ہے مرے اختلاف کے حق کو اسے بٹھایا ہے سر پر خدا نہیں سمجھا چراغ و آئنہ حیران کیوں نہیں ہوں گے کہ میں صباحت گل کی ادا نہیں ...

مزید پڑھیے

صبح تک جن سے بہت بیزار ہو جاتا ہوں میں

صبح تک جن سے بہت بیزار ہو جاتا ہوں میں رات ہوتے ہی انہی گلیوں میں کھو جاتا ہوں میں خواب میں گم ہوں کہ باہر کی فضا اچھی نہیں آنکھ کھلتے ہی کہیں زنجیر ہو جاتا ہوں میں کھینچ لاتی ہے اسی کوچے میں پھر آوارگی روز جس کوچے سے اپنے شہر کو جاتا ہوں میں اس اندھیرے میں چراغ خواب کی خواہش ...

مزید پڑھیے

کسی کو زہر دوں گا اور کسی کو جام دوں گا

کسی کو زہر دوں گا اور کسی کو جام دوں گا میں اپنے جاں نثاروں کو یہی انعام دوں گا اندھیرے میں دمک اٹھتے ہیں جتنے بھی ستارے اگر فرصت ملی تو میں انہیں کچھ نام دوں گا کسی تاریک مٹی پر مجھے بھی ساتھ رکھنا کہ میں تجھ کو کسی مشکل گھڑی میں کام دوں گا تھکا ہارا ہوں تنہا ہوں مگر یہ بات طے ...

مزید پڑھیے

نہیں آساں کسی کے واسطے تخمینہ میرا

نہیں آساں کسی کے واسطے تخمینہ میرا مقرر ہے دیار غیب سے روزینہ میرا دم رخصت اگر میں حوصلے سے کام لیتا پلٹ کر دیکھ سکتا تھا اسے آئینہ میرا ہدف بن پائیں گی آنکھیں نہ میرے دشمنوں کی مقابل ہے خدنگ خواب کے اب سینہ میرا پڑا رہتا ہوں کنج عافیت میں سر چھپا کر گزر جاتا ہے یوں ہی ثبت اور ...

مزید پڑھیے

دن کے پیکر میں کہیں رات میں ڈھلتے ہوئے رنگ

دن کے پیکر میں کہیں رات میں ڈھلتے ہوئے رنگ جانے رکتے ہیں کہاں نیند میں چلتے ہوئے رنگ آخری شمع بجھاتے ہوئے اپنے گھر کی میں دیکھے تھے کسی طاق میں جلتے ہوئے رنگ اس پری زاد کی آنکھوں میں دکھائی دیں گے ایک ہی پل میں کئی رنگ بدلتے ہوئے رنگ سر اٹھاتے ہیں مرے ڈوبتے لہجے میں کہیں گفتگو ...

مزید پڑھیے

ایک گھر اپنے لیے تیار کرنا ہے مجھے

ایک گھر اپنے لیے تیار کرنا ہے مجھے اور اک بستی کو بھی مسمار کرنا ہے مجھے اس اندھیرے میں چھپانا ہے کوئی دشمن مگر اس اجالے میں کسی پر وار کرنا ہے مجھے ایک ندی کے کنارے پر ٹھہرنے کے لیے شام ہونے تک یہ دریا پار کرنا ہے مجھے ڈھونڈ لایا ہوں خوشی کی چھاؤں جس کے واسطے ایک غم سے بھی اسے ...

مزید پڑھیے

عشق کی دسترس میں کچھ بھی نہیں

عشق کی دسترس میں کچھ بھی نہیں جان من! میرے بس میں کچھ بھی نہیں اک تری یاد کا تسلسل ہے اور تار نفس میں کچھ بھی نہیں راز دار بہار رفتہ نہ ہو یوں تو اس خار و خس میں کچھ بھی نہیں پرورش پا رہا ہے نخل زیاں نفع کیا اس برس میں کچھ بھی نہیں آخر کار ہارنے کے سوا اختیار ہوس میں کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

مرے نجم خواب کے روبرو کوئی شے نہیں مرے ڈھنگ کی

مرے نجم خواب کے روبرو کوئی شے نہیں مرے ڈھنگ کی یہ فلک ہے کشت غبار سا یہ زمیں ہے پانی کے رنگ کی کسی شام میرے جلو میں تھا کوئی خواب وسعت شہر کا کسی صبح میرے وجود پر یہ زمین لوگوں نے تنگ کی مری بے کلی کا ثبوت ہے مری شمع خواب کے سامنے کوئی گرم موج گمان کی کوئی سرد لہر امنگ کی مرے ...

مزید پڑھیے

خدائے برتر نے آسماں کو زمین پر مہرباں کیا ہے

خدائے برتر نے آسماں کو زمین پر مہرباں کیا ہے مگر مرے خواب کے نگر کو چراغ نے خوش گماں کیا ہے سنو کہ میں نے دھری ہے سطح رواں پہ اک ڈولتی عمارت اور ایک شمع طرب کو شہر ملال کا پاسباں کیا ہے مجھے یقیں ہے یہ صبح نو بھی مرے ستارے کا ساتھ دے گی کہ میں نے اک اسم کی مدد سے غبار کو آسماں کیا ...

مزید پڑھیے

نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کو

نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کو بہائے جا رہی ہے روشنی کی لہر پانی کو مجھے بھی سرخ کرتی ہے یہ مشعل میری آنکھوں کی کہ جیسے سبز کرتا ہے ضیا کا زہر پانی کو کسی بے نام سیارے پہ اب بھی ابر چھایا ہے ترستا ہے کئی دن سے اگرچہ دہر پانی کو بہت اترا رہی ہے موج صحرا اپنے ہونے پر رواں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4118 سے 6203