میں اس پری کا اگر مدعا نہیں سمجھا
میں اس پری کا اگر مدعا نہیں سمجھا سمجھ میں کیا نہیں آیا میں کیا نہیں سمجھا یہی بہت ہے کہ اس بار بھی میں دشمن کو برا سمجھتے ہوئے بھی برا نہیں سمجھا وہ مانتا ہے مرے اختلاف کے حق کو اسے بٹھایا ہے سر پر خدا نہیں سمجھا چراغ و آئنہ حیران کیوں نہیں ہوں گے کہ میں صباحت گل کی ادا نہیں ...