نہ پوچھ اے مرے غمخوار کیا تمنا تھی
نہ پوچھ اے مرے غمخوار کیا تمنا تھی دل حزیں میں بھی آباد ایک دنیا تھی ہر اک نظر تھی ہمارے ہی چاک داماں پر ہر ایک ساعت غم جیسے اک تماشا تھی ہمیں بھی اب در و دیوار گھر کے یاد آئے جو گھر میں تھے تو ہمیں آرزوئے صحرا تھی کوئی بچاتا ہمیں پھر بھی ڈوب ہی جاتے ہمارے واسطے زنجیر موج دریا ...