نہ ساتھ دے گا کوئی راہ آشنا میرا
نہ ساتھ دے گا کوئی راہ آشنا میرا جدا ہے سارے زمانے سے راستہ میرا گزر کے آئی ہوں میں غم کے ریگزاروں سے نظر اداس ہے دل ہے دکھا ہوا میرا نہ جانے کس لیے قاتل کے اشک بھر آئے فراز دار پہ جب سامنا ہوا میرا دیار جاں میں فروزاں رہے گی شمع حیات سمجھ لیا تری آنکھوں نے مدعا میرا کیا ہے پیش ...