کتابیں
کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے بڑی حسرت سے تکتی ہیں مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں' اب اکثر گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے بڑی حسرت سے تکتی ہیں جو قدریں وہ سناتی ...