قومی زبان

کتابیں

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے بڑی حسرت سے تکتی ہیں مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں' اب اکثر گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے بڑی حسرت سے تکتی ہیں جو قدریں وہ سناتی ...

مزید پڑھیے

الاؤ

رات بھر سرد ہوا چلتی رہی رات بھر ہم نے الاؤ تاپا میں نے ماضی سے کئی خشک سی شاخیں کاٹیں تم نے بھی گزرے ہوئے لمحوں کے پتے توڑے میں نے جیبوں سے نکالیں سبھی سوکھی نظمیں تم نے بھی ہاتھوں سے مرجھائے ہوئے خط کھولے اپنی ان آنکھوں سے میں نے کئی مانجے توڑے اور ہاتھوں سے کئی باسی لکیریں ...

مزید پڑھیے

تعاقب

صبح سے شام ہوئی اور ہرن مجھ کو چھلاوے دیتا سارے جنگل میں پریشان کیے گھوم رہا ہے اب تک اس کی گردن کے بہت پاس سے گزرے ہیں کئی تیر مرے وہ بھی اب اتنا ہی ہشیار ہے جتنا میں ہوں اک جھلک دے کے جو گم ہوتا ہے وہ پیڑوں میں میں وہاں پہنچوں تو ٹیلے پہ کبھی چشمے کے اس پار نظر آتا ہے وہ نظر رکھتا ...

مزید پڑھیے

گرہیں

مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہے اکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتے جب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہوا پھر سے باندھ کے اور سرا کوئی جوڑ کے اس میں آگے بننے لگتے ہو تیرے اس تانے میں لیکن اک بھی گانٹھ گرہ بنتر کی دیکھ نہیں سکتا ہے کوئی میں نے تو اک بار بنا تھا ایک ہی رشتہ لیکن اس کی ...

مزید پڑھیے

الجھن

ایک پشیمانی رہتی ہے الجھن اور گرانی بھی آؤ پھر سے لڑ کر دیکھیں شاید اس سے بہتر کوئی اور سبب مل جائے ہم کو پھر سے الگ ہو جانے کا

مزید پڑھیے

ایک خواب

ایک ہی خواب کئی بار یوں ہی دیکھا میں نے تو نے ساڑی میں اڑس لی ہیں مری چابیاں گھر کی اور چلی آئی ہے بس یوں ہی مرا ہاتھ پکڑ کر گھر کی ہر چیز سنبھالے ہوئے اپنائے ہوئے تو تو مرے پاس مرے گھر پہ مرے ساتھ ہے سونوںؔ میز پر پھول سجاتے ہوئے دیکھا ہے کئی بار اور بستر سے کئی بار جگایا بھی ہے ...

مزید پڑھیے

خود کشی

بس اک لمحہ کا جھگڑا تھا در و دیوار پر ایسے چھناکے سے گری آواز جیسے کانچ گرتا ہے ہر اک شے میں گئیں اڑتی ہوئی، جلتی ہوئی کرچیں نظر میں، بات میں، لہجے میں، سوچ اور سانس کے اندر لہو ہونا تھا اک رشتے کا سو وہ ہو گیا اس دن!! اسی آواز کے ٹکڑے اٹھا کے فرش سے اس شب کسی نے کاٹ لیں نبضیں نہ کی ...

مزید پڑھیے

لکڑی کی کاٹھی

لکڑی کی کاٹھی کاٹھی پہ گھوڑا گھوڑے کی دم پہ جو مارا ہتھوڑا دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا گھوڑا پہنچا چوک میں چوک میں تھا نائی گھوڑے جی کی نائی نے حجامت جو بنائی دوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا گھوڑا تھا گھمنڈی پہنچا سبزی منڈی سبزی منڈی برف پڑی تھی برف میں لگ گئی ...

مزید پڑھیے

میں کائنات میں

میں کائنات میں سیاروں میں بھٹکتا تھا دھوئیں میں دھول میں الجھی ہوئی کرن کی طرح میں اس زمیں پہ بھٹکتا رہا ہوں صدیوں تک گرا ہے وقت سے کٹ کر جو لمحہ اس کی طرح وطن ملا تو گلی کے لیے بھٹکتا رہا گلی میں گھر کا نشاں ڈھونڈتا رہا برسوں تمہاری روح میں اب جسم میں بھٹکتا ہوں لبوں سے چوم لو ...

مزید پڑھیے

ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک برس جیے

ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک برس جیے دو دن کی زندگی میں ہزاروں برس جیے صدیوں پہ اختیار نہیں تھا ہمارا دوست دو چار لمحے بس میں تھے دو چار بس جیے صحرا کے اس طرف سے گئے سارے کارواں سن سن کے ہم تو صرف صدائے جرس جیے ہونٹوں میں لے کے رات کے آنچل کا اک سرا آنکھوں پہ رکھ کے چاند کے ہونٹوں کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4109 سے 6203