قومی زبان

شام سے آج سانس بھاری ہے

شام سے آج سانس بھاری ہے بے قراری سی بے قراری ہے آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے رات کو دے دو چاندنی کی ردا دن کی چادر ابھی اتاری ہے شاخ پر کوئی قہقہہ تو کھلے کیسی چپ سی چمن میں طاری ہے کل کا ہر واقعہ تمہارا تھا آج کی داستاں ہماری ہے

مزید پڑھیے

اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پر

اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پر سیلی سی خاموشی میں آواز سنی فرمائش پر فاصلے ہیں بھی اور نہیں بھی ناپا تولا کچھ بھی نہیں لوگ بضد رہتے ہیں پھر بھی رشتوں کی پیمائش پر منہ موڑا اور دیکھا کتنی دور کھڑے تھے ہم دونوں آپ لڑے تھے ہم سے بس اک کروٹ کی گنجائش پر کاغذ کا اک چاند ...

مزید پڑھیے

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے کچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئے ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھا چھینا جھپٹی میں افق کھلتا گیا جاتے ہوئے میں نہ ہوں گا تو خزاں کیسے کٹے گی تیری شوخ پتے نے کہا شاخ سے مرجھاتے ہوئے حسرتیں اپنی بلکتیں نہ یتیموں کی طرح ہم کو آواز ...

مزید پڑھیے

پھول نے ٹہنی سے اڑنے کی کوشش کی

پھول نے ٹہنی سے اڑنے کی کوشش کی اک طائر کا دل رکھنے کی کوشش کی کل پھر چاند کا خنجر گھونپ کے سینے میں رات نے میری جاں لینے کی کوشش کی کوئی نہ کوئی رہبر رستہ کاٹ گیا جب بھی اپنی رہ چلنے کی کوشش کی کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی ایک ہی خواب نے ساری رات ...

مزید پڑھیے

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی تینوں تھے ہم وہ بھی تھے اور میں بھی تھا تنہائی بھی یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی دو دو شکلیں دکھتی ہیں اس بہکے سے آئینے میں میرے ساتھ چلا آیا ہے آپ کا اک سودائی ...

مزید پڑھیے

ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا

ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا میری تصویر بھی گرتی تو چھناکا ہوتا یوں بھی اک بار تو ہوتا کہ سمندر بہتا کوئی احساس تو دریا کی انا کا ہوتا سانس موسم کی بھی کچھ دیر کو چلنے لگتی کوئی جھونکا تری پلکوں کی ہوا کا ہوتا کانچ کے پار ترے ہاتھ نظر آتے ہیں کاش خوشبو کی طرح رنگ حنا کا ...

مزید پڑھیے

ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیں

ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیں شمع جلتی ہے تو لازم ہے شعاعیں نکلیں وقت کی ضرب سے کٹ جاتے ہیں سب کے سینے چاند کا چھلکا اتر جائے تو قاشیں نکلیں دفن ہو جائیں کہ زرخیز زمیں لگتی ہے کل اسی مٹی سے شاید مری شاخیں نکلیں چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں دل کو پگھلائیں تو ہو سکتا ...

مزید پڑھیے

عادت

سانس لینا بھی کیسی عادت ہے جئے جانا بھی کیا روایت ہے کوئی آہٹ نہیں بدن میں کہیں کوئی سایہ نہیں ہے آنکھوں میں پاؤں بے حس ہیں چلتے جاتے ہیں اک سفر ہے جو بہتا رہتا ہے کتنے برسوں سے کتنی صدیوں سے جئے جاتے ہیں جئے جاتے ہیں عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں

مزید پڑھیے

سدھارتھ کی ایک رات

کوئی پتا بھی نہیں ہلتا، نہ پردوں میں ہے جنبش پھر بھی کانوں میں بہت تیز ہواؤں کی صدا ہے کتنے اونچے ہیں یہ محراب محل کے اور محرابوں سے اونچا وہ ستاروں سے بھرا تھال فلک کا کتنا چھوٹا ہے مرا قد۔۔۔ فرش پر جیسے کسی حرف سے اک نقطہ گرا ہو سینکڑوں سمتوں میں بھٹکا ہوا من ٹھہرے ذرا دل ...

مزید پڑھیے

اسکیچ

یاد ہے اک دن میری میز پہ بیٹھے بیٹھے سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے ایک اسکیچ بنایا تھا آ کر دیکھو اس پودے پر پھول آیا ہے!

مزید پڑھیے
صفحہ 4110 سے 6203