قومی زبان

کون کہتا ہے کچھ بھلا نہ ہوا

کون کہتا ہے کچھ بھلا نہ ہوا کام تیرا کوئی برا نہ ہوا تیرا چاہا ہوا تو کیا نہ ہوا ہاں مگر کچھ مرا کہا نہ ہوا نام ہی نام خضر کا سن لو کوئی اپنا تو رہ نما نہ ہوا وہ بشر کیا کہ ذات سے جس کی دوسرے کا کبھی بھلا نہ ہوا تف ہے اس پر کہ جس سے اے عفتؔ کام ہی کوئی کام کا نہ ہوا

مزید پڑھیے

یارا نہیں جن میں دشمنی کا

یارا نہیں جن میں دشمنی کا دعویٰ نہ کریں وہ دوستی کا عنواں نہ ملے جو خود سری کا کھلتا نہیں باب آگہی کا ان کو تھا خیال دوستی کا وہ دور گزر چکا کبھی کا دستور نہیں کچھ اس صدی کا کب دور نہ تھا روا روی کا اے دوست گلہ نہ کر کسی کا احساس ہے یہ بھی کمتری کا وہ چاند اتر چکا ہے دل ...

مزید پڑھیے

آپ ہی ناخدا رہا ہوں میں

آپ ہی ناخدا رہا ہوں میں آپ ہی ڈوبتا رہا ہوں میں عشق سے آشنا رہا ہوں میں حسن کا مدعا رہا ہوں میں کہیں تیرا بھرم نہ کھل جائے خود کو خود سے چھپا رہا ہوں میں رونق دو جہاں مجھی سے ہیں آ رہا ہوں میں جا رہا ہوں میں جیسے کوئی بھی حق نہ ہو مجھ کو یوں تجھے دیکھتا رہا ہوں میں اے جنوں اب ...

مزید پڑھیے

پیا جن مکھ ترا دیکھا اسے پھر کیا دکھانا ہے

پیا جن مکھ ترا دیکھا اسے پھر کیا دکھانا ہے چکھا جن رس ترے لب کا اسے پھر کیا چکھانا ہے ہوا ہے دل مرا کولا برہ کی آگ کے بھیتر اسی جرتی انگاری کوں کہو اب کیا جرانا ہے نہ عاقل ہوں نہ دیوانہ نہ محرم ہوں نہ بیگانہ اسے بے ہوش بے خود کوں کہو پھر کیا بتانا ہے جدائی سے جرے عالم جروں میں رو ...

مزید پڑھیے

زندگی عشق و محبت سے جواں ہوتی ہے

زندگی عشق و محبت سے جواں ہوتی ہے ورنہ بے کیف سی بے تاب و تواں ہوتی ہے عشق کی لو سے جو روشن رگ جاں ہوتی ہے شمع بن جاتی ہے بے عشق دھواں ہوتی ہے کون ہم جیسوں کو اس مے کا پتہ دیتا ہے پہلے کچھ لوگ بتاتے تھے کہ ہاں ہوتی ہے ہاؤ ہو شور جو ہم سنتے ہیں مے خانے میں مے گساروں کے لئے بانگ اذاں ...

مزید پڑھیے

جہان رنگ و بو کتنا حسیں ہے

جہان رنگ و بو کتنا حسیں ہے یہ گلشن رشک فردوس بریں ہے مرا حسن نظر حسن آفریں ہے کہ ہر ذرہ جہاں کا مہ جبیں ہے تری ہستی سے قائم ہے یہ ہستی یہ ہستی خود کوئی ہستی نہیں ہے ترا در چھوڑ کر جائیں کہاں ہم کہ یہ امن و اماں کی سر زمیں ہے فساد انگیزئ آب و ہوا سے مزاج خاک یاں اب آتشیں ہے حکیمؔ ...

مزید پڑھیے

اٹھو گلے سے لپٹ جاؤ پھر نکھر لینا

اٹھو گلے سے لپٹ جاؤ پھر نکھر لینا تمام رات پڑی ہے بناؤ کر لینا یہ لوٹنا یہ مرا درد یاد کر لینا کبھی کبھی تو کلیجہ پہ ہاتھ دھر لینا ہمارے ساتھ ہے تیرا بھی امتحاں اے تیر تڑپ کے دل جو نکل جائے تو جگر لینا ڈرے تو کٹ نہ سکے گا کبھی گلا میرا یہی خوشی ہو تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لینا گناہ ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ کوئی ذات ہوتی ہے

نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ کوئی ذات ہوتی ہے محبت کرنے والوں کی نرالی بات ہوتی ہے بساط زیست پر ہم چال چلتے ہیں قرینے سے ذرا سی چوک ہو جائے تو بازی مات ہوتی ہے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں لوگ محفل میں غریبوں کی بھلا دنیا میں کیا اوقات ہوتی ہے بزرگوں کی دعائیں ہیں جو سر جھکنے نہیں ...

مزید پڑھیے

ہجوم درد کا اتنا بڑھے اثر گم ہو

ہجوم درد کا اتنا بڑھے اثر گم ہو ملے وہ رات کہ جس رات کی سحر گم ہو مزا تو جب ہے کہ آوارگان شوق کے ساتھ غبار بن کے چلے اور رہ گزر گم ہو ہماری طرح خراب سفر نہ ہو کوئی الٰہی یوں تو کسی کا نہ راہبر گم ہو چلے ہیں ہم بھی چراغ نظر جلائے ہوئے یہ روشنی بھی کہیں راہ میں اگر گم ہو تلاش دوست ...

مزید پڑھیے

بستی میں کمی کس چیز کی ہے پتھر بھی بہت شیشے بھی بہت

بستی میں کمی کس چیز کی ہے پتھر بھی بہت شیشے بھی بہت اس مہر و جفا کی نگری سے دل کے ہیں مگر رشتے بھی بہت اب کون بتائے وحشت میں کیا کھونا ہے کیا پایا ہے ہاتھوں کا ہوا شہرہ بھی بہت دامن نے سہے صدمے بھی بہت اک جہد و طلب کے راہی پر بے راہروی کی تہمت کیوں سمتوں کا فسوں جب ٹوٹ گیا آوارہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4099 سے 6203