قومی زبان

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا اسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئے وہ ماہ رخ جو لب بام بھی نہیں آتا کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے پر جدھر حباب تہی جام بھی نہیں آتا چرا کے خواب ...

مزید پڑھیے

بن میں ویراں تھی نظر شہر میں دل روتا ہے

بن میں ویراں تھی نظر شہر میں دل روتا ہے زندگی سے یہ مرا دوسرا سمجھوتا ہے لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تک رت جگے کاشت نہ کر لے تو وہ کب سوتا ہے جس کو اس فصل میں ہونا ہے برابر کا شریک میرے احساس میں تنہائیاں کیوں بوتا ہے نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا آج پھر شبنمیں ...

مزید پڑھیے

سوتے ہیں وہ آئینہ لے کر خوابوں میں بال بناتے ہیں

سوتے ہیں وہ آئینہ لے کر خوابوں میں بال بناتے ہیں سادہ سے پرندے کی خاطر کیا ریشمی جال بناتے ہیں امید کی سوکھتی شاخوں سے سارے پتے جھڑ جائیں گے اس خوف سے اپنی تصویریں ہم سال بہ سال بناتے ہیں زخموں کو چھپانے کی خاطر کپڑے ہی بدلنا چھوڑ دیا پوچھو تو سہی ہم کس کے لیے اپنا یہ حال بناتے ...

مزید پڑھیے

کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں

کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں مکاں تو سطح دریا پر بنائے ہیں حبابوں نے اثاثے گھر کے لیکن سب نے زیر آب رکھے ہیں یہ کنکر ان سے پہلے ہاتھ پر لہریں بنا لے گا ہماری راہ میں چاہت نے جو تالاب رکھے ہیں کناروں پر پہنچ کر تیرنے لگتی ہیں ...

مزید پڑھیے

ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہے

ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہے اب تک یاد کا پتا پتا ڈالی سے پیوستہ ہے مدت گزری دور سے میں نے ایک سفینہ دیکھا تھا اب تک خواب میں آ کر شب بھر دریا مجھ کو ڈستا ہے شام ابد تک ٹکرانے کا اذن نہیں ہے دونوں کو چاند اسی پر گرم سفر ہے جو سورج کا رستہ ہے تیز نہیں گر آنچ بدن کی جم ...

مزید پڑھیے

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا تصویر نہیں بدلی شیشہ بھی نہیں بدلا نظریں بھی سلامت ہیں چہرہ بھی نہیں بدلا ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نے منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا بے کار گیا بن میں سونا مرا صدیوں کا اس شہر میں تو اب تک ...

مزید پڑھیے

گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک

گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک سفر لمبا تھا خوشبو کا مگر آ ہی گئی گھر تک وفا کی سلطنت اقلیم وعدہ سر زمین دل نظر کی زد میں ہے خوابوں سے تعبیروں کے کشور تک کہیں بھی سرنگوں ہوتا نہیں اخلاص کا پرچم جدائی کے جزیرے سے محبت کے سمندر تک محبت اے محبت ایک جذبے کی مسافت ہے مرے آوارہ ...

مزید پڑھیے

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو ہر پتا نا آسودہ ہے ماحول چمن آلودہ ہے رہ جائیں لرزتی شاخوں پر دو چار گلاب تو اچھا ہو یوں شور کا دریا بپھرا ہے چڑیوں نے چہکنا چھوڑ دیا خطرے کے نشان سے نیچے اب اترے سیلاب تو اچھا ہو ہر ...

مزید پڑھیے

تکلم جو کوئی کرتا ہے فانی

تکلم جو کوئی کرتا ہے فانی ہماری اور تمہاری ہے کہانی جنوں میں یاد ہے اک بیت ابرو کہاں ہے اب دماغ شعر خوانی مآل عاشق و معشوق ہے ایک سنا ہے شمع سوزاں کی زبانی نشاں ہم بے نشانوں کا نہ پایا صبا نے مدتوں تک خاک چھانی وہ عاشق ہوں نہ آئے نیند مجھ کو سنوں جب تک نہ یوسف کی کہانی نہیں ...

مزید پڑھیے

اپنا ہر عضو چشم بینا ہے

اپنا ہر عضو چشم بینا ہے اس قدر انتظار تیرا ہے جو ہے محبوب تیرا شیدا ہے یوسف آگے تری زلیخا ہے ایک مہ رو بغل میں سوتا ہے آسماں پر دماغ اپنا ہے خاک میں جو ملا دیا مجھ کو آسماں نے زمیں کو سونپا ہے کس نے چہرے سے بال سرکائے شام کو صبح آشکارا ہے استخواں تک کبھی گزر نہ کیا میرے حق میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4089 سے 6203