قومی زبان

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی راہ میں دشت نہیں پڑتا تھا چار گھروں کی دوری تھی جذبوں کا دم گھٹنے لگا ہے لفظوں کے انبار تلے پہلے نشاں زد کر لینا تھا جتنی بات ضروری تھی تیری شکل کے ایک ستارے نے پل بھر سرگوشی کی شاید ماہ و سال وفا کی بس اتنی مزدوری تھی پیار گیا تو کیسے ...

مزید پڑھیے

رات اس کے سامنے میرے سوا بھی میں ہی تھا

رات اس کے سامنے میرے سوا بھی میں ہی تھا سب سے پہلے میں گیا تھا دوسرا بھی میں ہی تھا میں مخالف سمت میں چلتا رہا ہوں عمر بھر اور جو اس تک گیا وہ راستہ بھی میں ہی تھا سب سے کٹ کر رہ گیا خود میں سمٹ کر رہ گیا سلسلہ ٹوٹا کہاں سے سوچتا بھی میں ہی تھا سب سے اچھا کہہ کے اس نے مجھ کو رخصت کر ...

مزید پڑھیے

ہم نے تو بے شمار بہانے بنائے ہیں

ہم نے تو بے شمار بہانے بنائے ہیں کہتا ہے دل کہ بت بھی خدا نے بنائے ہیں لے لے کے تیرا نام ان آنکھوں نے رات بھر تسبیح انتظار کے دانے بنائے ہیں ہم نے تمہارے غم کو حقیقت بنا دیا تم نے ہمارے غم کے فسانے بنائے ہیں وہ لوگ مطمئن ہیں کہ پتھر ہیں ان کے پاس ہم خوش کہ ہم نے آئینہ خانے بنائے ...

مزید پڑھیے

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے کہاں تک میں دیکھوں یہ منظر اکیلے گلی میں ہواؤں کی سرگوشیاں ہیں گھروں میں مگر سب صنوبر اکیلے نمائش ہزاروں نگاہوں نے دیکھی مگر پھول پہلے سے بڑھ کر اکیلے اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہ پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے جو دیکھو تو اک لہر میں جا رہے ہیں جو ...

مزید پڑھیے

آفاق میں پھیلے ہوئے منظر سے نکل کر

آفاق میں پھیلے ہوئے منظر سے نکل کر چاہا تجھے موجود و میسر سے نکل کر دن سے بھی اٹھاتے نہیں ہم رات کے پردے خوابوں کے تعاقب میں ہیں بستر سے نکل کر دیوار کے سائے میں بھی اک شہر ہے آباد دیکھا ہی نہیں تو نے کبھی گھر سے نکل کر چشمے پہ جو پانی کے لیے ہاتھ بڑھاؤں چنگاریاں آ جاتی ہیں پتھر ...

مزید پڑھیے

بھولا ہے بعد مرگ مجھے دوست یاں تلک

بھولا ہے بعد مرگ مجھے دوست یاں تلک سگ بھی نہ اس کا آیا مری استخواں تلک گو ہم قفس سے جا نہ سکے بوستاں تلک اڑ اڑ کے رنگ چہرہ گیا پر وہاں تلک بلبل ہجوم گل ہے چمن میں یہاں تلک پھولوں سے چھا گیا ہے ترا آشیاں تلک کب پہنچی آہ ضعف سے گوش بتاں تلک سو جا ٹھہر کے سینے سے آئی زباں تلک پرواز ...

مزید پڑھیے

حسرت اے جاں شب جدائی ہے

حسرت اے جاں شب جدائی ہے مژدہ اے دل کہ موت آئی ہے تجھ سے مغرور کی جھکی گردن پھر بھی اک شان کبریائی ہے اس نے تلوار کو سنبھالا ہے دیکھیے کس کی موت آئی ہے پھر گیا جب سے وہ صنم بہ خدا ہم سے برگشتہ اک خدائی ہے بات سیدھی بھی وہ نہیں کرتا کج ادائی سے کج ادائی ہے آپ کو جانتا ہے آئینہ صاف ...

مزید پڑھیے

اس کو غفلت‌ پیشہ کہہ آتے ہیں ہم

اس کو غفلت‌ پیشہ کہہ آتے ہیں ہم بھول جانا یاد دلواتے ہیں ہم ضعف سے رہتا ہے اب پاؤں پہ سر آپ اپنی ٹھوکریں کھاتے ہیں ہم دل نہیں اس بت کی الفت چھوڑتا نا سمجھ کو لاکھ سمجھاتے ہیں ہم ہے جنازہ اس لئے بھاری مرا حسرتیں دل کی لئے جاتے ہیں ہم بار عصیاں سر پہ ہے گویا بہت کیا اٹھائیں سر ...

مزید پڑھیے

کتنی ڈھل گئی عمر تمہاری حیرت ہے

کتنی ڈھل گئی عمر تمہاری حیرت ہے اب تک کیسے رہی کنواری حیرت ہے گھر میں آٹا دال نہ دلیا پھر بھی شیخ باہر کھائیں نان نہاری حیرت ہے اپنا روز کا ملنا آخر کام آیا امی بن گئیں ساس تمہاری حیرت ہے ہم تو تیرے تیر نظر سے مر جاتے لیکن تیرے ہاتھ میں آری حیرت ہے تیرے رخساروں سے دنیا روشن ...

مزید پڑھیے

مجھ کو غریب اور قرض دار دیکھ کر

مجھ کو غریب اور قرض دار دیکھ کر مجھ سے وہ دور ہے مجھے بیکار دیکھ کر پیدل ہمیں جو دیکھ کے کتراتے تھے کبھی اب لفٹ مانگتے ہیں وہی کار دیکھ کر عشاق سارے مر گئے ان کے تو دیکھیے پچھتا رہے ہیں اب ہمیں بیمار دیکھ کر اب رہنمائی کرنے سے کترا رہے ہیں سب مشہور رہنا کو سر دار دیکھ کر کل رات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4088 سے 6203