قومی زبان

سب رنگ ناتمام ہوں ہلکا لباس ہو

سب رنگ ناتمام ہوں ہلکا لباس ہو شفاف پانیوں پہ کنول کا لباس ہو اشکوں سے بن کے مرثیہ پہنا دیا گیا اب زندگی کے تن پہ غزل کا لباس ہو ہر ایک آدمی کو ملے خلعت بشر ہر ایک جھونپڑی پہ محل کا لباس ہو سن لے جو آنے والے زمانے کی آہٹیں کیسے کہے کہ آج بھی کل کا لباس ہو یا رب کسی صدی کے افق پر ...

مزید پڑھیے

ذہن میں دائرے سے بناتا رہا دور ہی دور سے مسکراتا رہا

ذہن میں دائرے سے بناتا رہا دور ہی دور سے مسکراتا رہا میں سمندر نہیں چاند کو علم ہے رات بھر پھر بھی مجھ کو بلاتا رہا آنکھ میں خیمہ زن نیلگوں وسعتیں اپنا پہلا قدم ہی خلاؤں میں ہے جو جفا کے جزیرہ نماؤں میں ہے دل کا اس خاک خستہ سے ناتا رہا کج ادائی کی چادر سے منہ ڈھانپ کر سونے والا ...

مزید پڑھیے

نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے

نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے خوشی اسی کی ہمیشہ نظر میں رہتی تھی اور اپنی قوت غم بھی بحال رکھتے تھے بس اشتیاق تکلم میں بارہا ہم لوگ جواب دل میں زباں پر سوال رکھتے ...

مزید پڑھیے

عکس کی صورت دکھا کر آپ کا ثانی مجھے

عکس کی صورت دکھا کر آپ کا ثانی مجھے ساتھ اپنے لے گیا بہتا ہوا پانی مجھے میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے اس طرح قحط ہوا کی زد میں ہے میرا وجود آندھیاں پہچان لیتی ہیں بہ آسانی مجھے بڑھ گیا اس رت میں شاید نکہتوں کا اعتبار دن کے آنگن میں ...

مزید پڑھیے

بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا

بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا مگر وہ شہر کے رستے سے آیا تھا دیئے کی آرزو کو جب بجھایا تھا پھر اس کے بعد آہٹ تھی نہ سایہ تھا اسے جب دیکھنے کے بعد دیکھا تو وہ خود بھی دل ہی دل میں مسکرایا تھا دل و دیوار تھے اک نام کی زد پر کہیں لکھا کہیں میں نے مٹایا تھا ہزاروں اس میں رہنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھا

پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھا چاند جن چار گواہوں کو نظر آیا تھا رنگ پھولوں نے چنے آپ سے ملتے جلتے اور بتاتے بھی نہیں کون ادھر آیا تھا بوند بھی تشنہ ابابیل پہ نازل نہ ہوئی ورنہ بادل تو بلندی سے اتر آیا تھا تو نے دیکھا ہی نہیں ورنہ وفا کا مجرم اپنی آنکھیں تری دہلیز پہ دھر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک پل کی اداسی کو جانتا ہے تو آ

ہر ایک پل کی اداسی کو جانتا ہے تو آ مرے وجود کو تو دل سے مانتا ہے تو آ وفا کے شہر میں اب لوگ جھوٹ بولتے ہیں تو آ رہا ہے مگر سچ کو مانتا ہے تو آ مرے دیئے نے اندھیرے سے دوستی کر لی مجھے تو اپنے اجالے میں جانتا ہے تو آ حیات صرف ترے موتیوں کا نام نہیں دلوں کی بکھری ہوئی خاک چھانتا ہے ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے بچھڑے کاجل کو تحریر بنانے والے

آنکھ سے بچھڑے کاجل کو تحریر بنانے والے مشکل میں پڑ جائیں گے تصویر بنانے والے یہ دیوانہ پن تو رہے گا دشت کے ساتھ سفر میں سائے میں سو جائیں گے زنجیر بنانے والے اس نے تو دیکھے ان دیکھے خواب سبھی لوٹائے اور تھے شاید ٹوٹی ہوئی تعبیر بنانے والے سونے کی دیوار سے آگے میرے کام نہ ...

مزید پڑھیے

اپنے اشعار کو رسوا سر بازار کروں

اپنے اشعار کو رسوا سر بازار کروں کیسے ممکن ہے کہ میں مدحت دربار کروں دل میں مقتول کی تصویر لیے پھرتا ہوں اور قاتل سے عقیدت کا بھی اظہار کروں یہی منشور محبت ہے کہ وہ پیکر ظلم جس کو نفرت سے نوازے میں اسے پیار کروں اب مرے شہر کی پہچان ہے اک وعدہ شکن شہریت بدلوں کہ تاریخ کا انکار ...

مزید پڑھیے

بن سے فصیل شہر تک کوئی سوار بھی نہیں

بن سے فصیل شہر تک کوئی سوار بھی نہیں کس کو بٹھائیں تخت پر گرد و غبار بھی نہیں برگ و گل و طیور سب شاخوں کی سمت اڑ گئے قصر جہاں پناہ میں نقش و نگار بھی نہیں سایوں کی زد میں آ گئیں ساری غلام گردشیں اب تو کنیز کے لیے راہ فرار بھی نہیں میلے لباس کی دعا پہنچے شبیہ شاخ تک شاہوں کے پائیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4087 سے 6203