قومی زبان

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے وہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے زرد رو ایک ہی پل میں ہوئی مدھ ماتی شام لال ہونے بھی نہ پائے تھے ابھی گال اس کے کہکشاؤں میں تڑپتے تھے ستاروں کے پرند سبز آکاش پہ ہر سو تھے بچھے جال اس کے کاٹ ہی لیں گے جدائی کا زمانہ ہم تو دیکھیے کیسے ...

مزید پڑھیے

کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا

کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا پاگل تھا یوں ہی چمٹ رہا تھا مری رات گزر رہی تھی ایسے میں جیسے ورق الٹ رہا تھا ساگر میں نہیں تھی موج اک بھی ساحل تھا کہ پھر بھی کٹ رہا تھا میں بھی تو جھپٹ رہا تھا خود پر جب میرا اثاثہ بٹ رہا تھا دیکھا تو نظر تھی اس کی جل تھل مشکیزۂ ابر پھٹ رہا تھا قسمت ...

مزید پڑھیے

ستارہ تو کبھی کا جل بجھا ہے

ستارہ تو کبھی کا جل بجھا ہے یہ آنسو سا تری پلکوں پہ کیا ہے درختوں کو تو چپ ہونا تھا اک دن پرندوں کو مگر کیا ہو گیا ہے دھنک دیوار کے رستے میں حائل وگرنہ جست بھر کا فاصلہ ہے اسے بند آنکھ سے میں دیکھ تو لوں مگر پھر عمر بھر کا فاصلہ ہے چلو اپنی بھی جانب اب چلیں ہم یہ رستہ دیر سے سونا ...

مزید پڑھیے

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا سارا لہو بدن کا رواں مشت پر میں تھا جاتے کہاں کہ رات کی بانہیں تھیں مشتعل چھپتے کہاں کہ سارا جہاں اپنے گھر میں تھا حد افق پہ شام تھی خیمے میں منتظر آنسو کا اک پہاڑ سا حائل نظر میں تھا لو وہ بھی خشک ریت کے ٹیلے میں ڈھل گیا کل تک جو ایک کوہ گراں ...

مزید پڑھیے

رنگ اور روپ سے جو بالا ہے

رنگ اور روپ سے جو بالا ہے کس قیامت کے نقش والا ہے چاپ ابھری ہے دل کے اندر سے کوئی پلکوں پہ آنے والا ہے زندگی ہے لہو کا اک چھینٹا عمر زخموں کی دیپ مالا ہے تول سکتا ہے کون خوشبو کو پھر بھی ہم نے یہ روگ پالا ہے کتنا آباد ہے گھنا جنگل کیسا سنسان یہ شوالا ہے دیکھ اس تیری چاندنی‌ شب ...

مزید پڑھیے

اڑی جو گرد تو اس خاک داں کو پہچانا

اڑی جو گرد تو اس خاک داں کو پہچانا اور اس کے بعد دل بے نشاں کو پہچانا جلا جو رزق تو ہم آسماں کو جان گئے لگی جو پیاس تو تیر و کماں کو پہچانا چلو یہ آنکھ کا جل تھل تو تم نے دیکھ لیا مگر یہ کیا کہ نہ ابر رواں کو پہچانا بہار آئی تو ہر سو تھیں کترنیں اس کی بہار آئی تو ہم نے خزاں کو ...

مزید پڑھیے

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا بدن مرا تھا بدن میں عذاب اس کا تھا سفینے چند خوشی کے ضرور اپنے تھے مگر وہ سیل غم بے حساب اس کا تھا دئیے بجھے تو ہوا کو کیا گیا بد نام قصور ہم نے کیا احتساب اس کا تھا یہ کس حساب سے کی تو نے روشنی تقسیم ستارے مجھ کو ملے ماہتاب اس کا تھا فلک پہ ...

مزید پڑھیے

بادل برس کے کھل گیا رت مہرباں ہوئی

بادل برس کے کھل گیا رت مہرباں ہوئی بوڑھی زمیں نے تن کے کہا میں جواں ہوئی مکڑی نے پہلے جال بنا میرے گرد پھر مونس بنی رفیق بنی پاسباں ہوئی شب کی رکاب تھام کے خوشبو ہوئی جدا دن چڑھتے چڑھتے بسری ہوئی داستاں ہوئی کرتے ہو اب تلاش ستاروں کو خاک پر جیسے زمیں زمیں نہ ہوئی آسماں ...

مزید پڑھیے

بے صدا دم بخود فضا سے ڈر

بے صدا دم بخود فضا سے ڈر خشک پتہ ہے تو ہوا سے ڈر کورے کاغذ کی سادگی پہ نہ جا گنگ لفظوں کی اس ردا سے ڈر آسماں سے نہ اس قدر گھبرا تو زمیں کی سزا جزا سے ڈر جانے کس کھونٹ تجھ کو لے جائیں شاہزادے نقوش پا سے ڈر ترک دست طلب پہ مت اترا اپنے دل میں چھپے گدا سے ڈر عرش تک بھی اڑان ہے اپنی ہم ...

مزید پڑھیے

اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے

اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے آواز جرس اب کے برس مجھ کو ہنسا دے یا ابر کرم بن کے برس خشک زمیں پر یا پیاس کے صحرا میں مجھے جینا سکھا دے میں بھی تری خوشبو ہوں مری سمت بھی تو دیکھ مہلت تجھے گر سلسلۂ موج صبا دے سورج نے مجھے برف کیا ہے تو تجھے کیا کیا تجھ کو اگر برف مجھے آگ لگا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 405 سے 6203