قومی زبان

دل ابھی تک جوان ہے پیارے

دل ابھی تک جوان ہے پیارے کس مصیبت میں جان ہے پیارے تو مرے حال کا خیال نہ کر اس میں بھی ایک شان ہے پیارے تلخ کر دی ہے زندگی جس نے کتنی میٹھی زبان ہے پیارے وقت کم ہے نہ چھیڑ ہجر کی بات یہ بڑی داستان ہے پیارے جانے کیا کہہ دیا تھا روز ازل آج تک امتحان ہے پیارے ہم ہیں بندے مگر ترے ...

مزید پڑھیے

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں اس دور دوستی کی دوا ہو گیا ہوں میں قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کو دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں ہمت بلند تھی مگر افتاد دیکھنا چپ چاپ آج محو دعا ہو گیا ہوں میں یہ زندگی فریب مسلسل نہ ہو کہیں شاید اسیر دام بلا ہو گیا ہوں میں ہاں کیف بے ...

مزید پڑھیے

جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں

جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں وہیں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوں بہ حال گمرہی پایا گیا ہوں حرم سے دیر میں لایا گیا ہوں بلا کافی نہ تھی اک زندگی کی دوبارہ یاد فرمایا گیا ہوں برنگ لالۂ ویرانہ بے کار کھلایا اور مرجھایا گیا ہوں اگرچہ ابر گوہر بار ہوں میں مگر آنکھوں سے برسایا گیا ہوں سپرد ...

مزید پڑھیے

کمبخت دل برا ہوا تری آہ آہ کا

کمبخت دل برا ہوا تری آہ آہ کا حسن نگاہ بھی نہ رہا گاہ گاہ کا چھیڑو نہ میٹھی نیند میں اے منکر و نکیر سونے دو بھائی میں تھکا ماندہ ہوں راہ کا میرے مقلدوں کو مری راہ شوق میں ہر گام پر نشان ملا سجدہ گاہ کا دل سا گواہ حشر میں آ کر پھسل گیا اب رحم پر معاملہ ہے داد خواہ کا کس منہ سے کہہ ...

مزید پڑھیے

دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا

دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا پھر بھی دل ہی میں رہوگے مجھے معلوم نہ تھا ساتھ دنیا کا میں چھوڑوں گا تمہاری خاطر اور تم ساتھ نہ دو گے مجھے معلوم نہ تھا چپ جو ہوں کوئی بری بات ہے میرے دل میں تم بھی یہ بات کہو گے مجھے معلوم نہ تھا لوگ روتے ہیں میری بد نظری کا رونا تم بھی اس رو ...

مزید پڑھیے

ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پی

ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پی یہ مے ہے خودکشید اسے مسکرا کے پی اتریں گے کس کے حلق سے یہ دل خراش گھونٹ کس کو پیام دوں کہ مرے ساتھ آ کے پی مشروب جم ہی تلخئ غم کا علاج ہے شیرینیٔ کلام ذرا سی ملا کے پی واعظ کی اب نہ مان اگر جان ہے عزیز اس دور میں یہ چیز بہ طور اک دوا کے پی بھر ...

مزید پڑھیے

دوستی کا چلن رہا ہی نہیں

دوستی کا چلن رہا ہی نہیں اب زمانے کی وہ ہوا ہی نہیں سچ تو یہ ہے صنم کدے والو دل خدا نے تمہیں دیا ہی نہیں پلٹ آنے سے ہو گیا ثابت نامہ بر تو وہاں گیا ہی نہیں حال یہ ہے کہ ہم غریبوں کا حال تم نے کبھی سنا ہی نہیں کیا چلے زور دشت وحشت کا ہم نے دامن کبھی سیا ہی نہیں غیر بھی ایک دن مریں ...

مزید پڑھیے

کوئی چارا نہیں دعا کے سوا

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا برسر ساحل مراد یہاں کوئی ابھرا ہے ناخدا کے سوا کوئی بھی تو دکھاؤ منزل پر جس کو دیکھا ہو رہ نما کے سوا دل سبھی کچھ زبان پر لایا اک فقط عرض مدعا کے سوا کوئی راضی نہ رہ ...

مزید پڑھیے

یہ کیا مقام ہے وہ نظارے کہاں گئے

یہ کیا مقام ہے وہ نظارے کہاں گئے وہ پھول کیا ہوئے وہ ستارے کہاں گئے یاران بزم جرأت رندانہ کیا ہوئی ان مست انکھڑیوں کے اشارے کہاں گئے ایک اور دور کا وہ تقاضا کدھر گیا امڈے ہوئے وہ ہوش کے دھارے کہاں گئے افتاد کیوں ہے لغزش مستانہ کیوں نہیں وہ عذر مے کشی کے سہارے کہاں گئے دوران ...

مزید پڑھیے

یہ اور دور ہے اب اور کچھ نہ فرمائے

یہ اور دور ہے اب اور کچھ نہ فرمائے مگر حفیظؔ کو یہ بات کون سمجھائے وفا کا جوش تو کرتا چلا گیا مدہوش قدم قدم پہ مجھے دوست ہوش میں لائے پری رخوں کی زباں سے کلام سن کے مرا بہت سے لوگ مری شکل دیکھنے آئے بہشت میں بھی ملا ہے مجھے عذاب شدید یہاں بھی مولوی صاحب ہیں میرے ہمسائے عذاب قبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4049 سے 6203