دل ابھی تک جوان ہے پیارے
دل ابھی تک جوان ہے پیارے کس مصیبت میں جان ہے پیارے تو مرے حال کا خیال نہ کر اس میں بھی ایک شان ہے پیارے تلخ کر دی ہے زندگی جس نے کتنی میٹھی زبان ہے پیارے وقت کم ہے نہ چھیڑ ہجر کی بات یہ بڑی داستان ہے پیارے جانے کیا کہہ دیا تھا روز ازل آج تک امتحان ہے پیارے ہم ہیں بندے مگر ترے ...