اشومیدھ یگیہ
گوری چٹی یال گھنی سی دودھ ایسی پوشاک بدن کی لانبے نازک ماتھے پر مہندی کا گھاؤ اڑتی گرتی خاک سموں کی مٹھی بھر کر منہ پر مل کر دل کی پیاس بجھاؤ صدیوں کے دکھ جھیلتے جاؤ رہے سفر میں ہرے مہکتے کھیتوں میں خوش باش پھرے اپنے پیچھے آتی قوت کے نشے میں کھویا رستے کے ہر بھاری پتھر کو ٹھوکر ...