قومی زبان

اشومیدھ یگیہ

گوری چٹی یال گھنی سی دودھ ایسی پوشاک بدن کی لانبے نازک ماتھے پر مہندی کا گھاؤ اڑتی گرتی خاک سموں کی مٹھی بھر کر منہ پر مل کر دل کی پیاس بجھاؤ صدیوں کے دکھ جھیلتے جاؤ رہے سفر میں ہرے مہکتے کھیتوں میں خوش باش پھرے اپنے پیچھے آتی قوت کے نشے میں کھویا رستے کے ہر بھاری پتھر کو ٹھوکر ...

مزید پڑھیے

کہانی

عجب دن تھے وہ جھاڑیاں آگ کے جھنڈ کائی زدہ تال جن کے کنارے ہزاروں برس سے کھڑے جنڈ اور ون کے ڈھانچے پھلائی کے پھرواں کے جنگل جو دھرتی پہ بچھ سے گئے تھے اداسی ہوا بن کے پھرتی تھی اور سنت سادھو پرانے درختوں کے نیچے بچھی گھاس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے تھے خود اپنے ہی اندر کے تاریک ...

مزید پڑھیے

دیوار گریہ

عجب جادو بھری آنکھیں تھیں اس کی وہ جب پلکیں اٹھا کر اک نظر تکتی تو آنکھوں کی سیہ جھیلوں میں جیسے مچھلیوں کو آگ لگ جاتی ہزاروں سرخ ڈورے تلملا کر جست بھرتے آب غم کی قید سے باہر نکلنے کے لیے سو سو جتن کرتے مگر مجبور تھے چاروں طرف آنسو کے گنبد تھے نمی کے بلبلے تھے اور اک دیوار گریہ جو ...

مزید پڑھیے

بانجھ

چھتوں منڈیروں اور پیڑوں پر ڈھلتی دھوپ کے اجلے کپڑے سوکھ رہے تھے بادل سرخ سی جھالر والے بانکے بادل ہنستے چہکتے پھولوں کا اک گلدستہ تھے ہر شے کندن روپ میں ڈھل کر دمک رہی تھی گالوں پر سونے کی ڈلگ اور آنکھوں میں اک تیز چمک تھی سارا منظر کیف کے اک لمحے میں بے بس لذت کی بانہوں میں جکڑا ...

مزید پڑھیے

آویزش

آج پھر اس سے ملاقات ہوئی باغ کے مغربی گوشے میں جھکے نیم کے چھتنار تلے ایک بد رنگ سی چادر پہ وہ بیٹھا تھا مجھے دیکھ کے سرشار ہوا بھائی کیسے ہو! نظر تم کبھی آتے ہی نہیں آؤ کچھ دیر مرے پاس تو بیٹھو دیکھو کیسا چپ چاپ ہے یہ باغ کا گوشہ جیسے کسی مواج سمندر میں جزیرہ کوئی دور وہ سرمئی بادل ...

مزید پڑھیے

عنکبوت

تہہ در تہہ جنگل کے اندر اس کا اک چھوٹا سا گھر تھا اور خود جنگل شب کے کالے ریشم کے اک تھان کے اندر دبا پڑا تھا چر مر سی آواز بنا تھا اور شب گورے دن کے مکڑی جال میں جکڑی اک کالی مکھی کی صورت لٹک رہی تھی میں کیا کرتا مجبوری سی مجبوری تھی میں نے خود کو گھر چھپر میں الٹا لٹکا دیکھ لیا ...

مزید پڑھیے

بادل چھٹے تو رات کا ہر زخم وا ہوا

بادل چھٹے تو رات کا ہر زخم وا ہوا آنسو رکے تو آنکھ میں محشر بپا ہوا سوکھی زمیں پہ بکھری ہوئی چند پتیاں کچھ تو بتا نگار چمن تجھ کو کیا ہوا ایسے بڑھے کہ منزلیں رستے میں بچھ گئیں ایسے گئے کہ پھر نہ کبھی لوٹنا ہوا اے جستجو کہاں گئے وہ حوصلے ترے کس دشت میں خراب ترا قافلہ ہوا پہنچے ...

مزید پڑھیے

سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہنا

سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہنا خبر کی آنچ میں جل کر بھی بے خبر رہنا سحر کی اوس سے کہنا کہ ایک پل تو رکے کہ ناپسند ہے ہم کو بھی خاک پر رہنا تمام عمر ہی گزری ہے دستکیں سنتے ہمیں تو راس نہ آیا خود اپنے گھر رہنا وہ خوش کلام ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیں طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر ...

مزید پڑھیے

جبین سنگ پہ لکھا مرا فسانہ گیا

جبین سنگ پہ لکھا مرا فسانہ گیا میں رہ گزر تھا مجھے روند کر زمانہ گیا نقاب اوڑھ کے آئے تھے رات کے قزاق پگھلتی شام سے سب دھوپ کا خزانہ گیا کسے خبر وہ روانہ بھی ہو سکا کہ نہیں تمہارے شہر سے جب اس کا آب و دانہ گیا وہ چل دیا تو نگاہوں سے کہ دلوں سے غرور لبوں سے زہر ہواؤں سے تازیانہ ...

مزید پڑھیے

خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ تجھے

خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ تجھے آزاد ہو کے مجھ سے مگر کیا ملا تجھے اک لحظہ اپنی آنکھ میں تو جھانک لے اگر آؤں نظر میں بکھرا ہوا جا بجا تجھے تھا مجھ کو تیرا پھینکا ہوا پھول ہی بہت لفظوں کا اہتمام بھی کرنا پڑا تجھے یہ اور بات میں نے صدائیں ہزار دیں آئی نہ دشت ہول سے اک بھی صدا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 404 سے 6203