وہ سر خوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دے
وہ سر خوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دے مرے خیالوں میں رنگ بھر دے مرے لہو کو شراب کر دے حقیقتیں آشکار کر دے صداقتیں بے حجاب کر دے ہر ایک ذرہ یہ کہہ رہا ہے کہ آ مجھے آفتاب کر دے یہ خواب کیا ہے یہ زشت کیا ہے جہاں کی اصلی سرشت کیا ہے بڑا مزا ہو تمام چہرے اگر کوئی بے نقاب کر ...