آخری رات
سیاہی بن کے چھایا شہر پر شیطان کا فتنہ گناہوں سے لپٹ کر سو گیا انسان کا فتنہ پناہیں حسن نے پائیں سیہ کاری کے دامن میں وفاداری ہوئی روپوش ناداری کے دامن میں میسر ہیں زری کے شامیانے خوش نصیبی کو اوڑھا دی سایۂ دیوار نے چادر غریبی کو مشقت کو سکھا کر خوبیاں خدمت گزاری کی ہوئیں بے ...