قومی زبان

توبہ نامہ

اف وہ راوی کا کنارہ وہ گھٹا چھائی ہوئی شام کے دامن میں سبزے پر بہار آئی ہوئی وہ شفق کے بادلوں میں نیلگوں سرخی کا رنگ اور راوی کی طلائی نقرئی لہروں میں جنگ شہ درے میں آم کے پیڑوں پہ کوئل کی پکار ڈالیوں پر سبز پتوں سرخ پھولوں کا نکھار وہ گلابی عکس میں ڈوبی ہوئی چشم حباب اور نشے ...

مزید پڑھیے

عید

چاند جب عید کا نظر آیا حال کیا پوچھتے ہو خوشیوں کا آسماں پر ہوائیاں چھوٹیں نوبتیں مسجدوں میں بجنے لگیں شکر سب خاص و عام کرنے لگے اور باہم سلام کرنے لگے ننھے بچے ہیں خاص کر مسرور کہتے ہیں عید اب ہے کتنی دور مائیں کہتی ہیں کچھ نہیں اب دور صبح آ جائے گی یہاں پہ ضرور آؤ کھا پی کے سو ...

مزید پڑھیے

دھنک

آج بادل خوب برسا اور برس کر کھل گیا گلستاں کی ڈالی ڈالی پتا پتا دھل گیا دیکھنا کیا دھل گیا سارے کا سارا آسماں اودا اودا نیلا نیلا پیارا پیارا آسماں ہٹ گیا بادل کا پردہ مل گئی کرنوں کو راہ سلطنت پر اپنی پھر خورشید نے ڈالی نگاہ دھوپ میں ہے گھاس پر پانی کے قطروں کی چمک مات ہے اس وقت ...

مزید پڑھیے

بسنتی ترانہ

لو پھر بسنت آئی پھولوں پہ رنگ لائی چلو بے درنگ لب آب گنگ بجے جل ترنگ من پر امنگ چھائی پھولوں پہ رنگ لائی لو پھر بسنت آئی آفت گئی خزاں کی قسمت پھری جہاں کی چلے مے گسار سوئے لالہ زار مئے پردہ دار شیشے کے در سے جھانکی قسمت پھری جہاں کی آفت گئی خزاں کی کھیتوں کا ہر چرندہ باغوں کا ہر ...

مزید پڑھیے

میری شاعری

مری شاعری ہے نظاروں کی دنیا یہ نغمہ سرا جوئباروں کی دنیا یہ ہنگامہ زار آبشاروں کی دنیا فلک آشنا کوہساروں کی دنیا یہ پھولوں کی بستی بہاروں کی دنیا یہی ہے مرے شاہ کاروں کی دنیا مری شاعری ہے نظاروں کی دنیا مری شاعری چاند تاروں کی دنیا یہ رنگیں گھروندا طلسم زمانہ کھلونوں کا ہے اک ...

مزید پڑھیے

مدرسے کا ایک ہی کمرہ

ماسٹر جی باہر گئے ہیں ماسٹر جی گئے ذرا باہر اب نظر کیا رہے کتابوں پر دل ہی دل میں ہیں سارے لڑکے شاد گویا قیدی تھے اب ہوئے آزاد اب کتابیں کہاں سبق کس کا پڑھنا وڑھنا خیال سے کھسکا ایک ہنستا ہے ایک گاتا ہے اور اک چٹکیاں بجاتا ہے ایک بیٹھے ہی بیٹھے سوتا ہے اور اک جھوٹ موٹ روتا ہے مشورے ...

مزید پڑھیے

کرشن کنھیا

اے دیکھنے والو اس حسن کو دیکھو اس راز کو سمجھو یہ نقش خیالی یہ فکرت عالی یہ پیکر تنویر یہ کرشن کی تصویر معنی ہے کہ صورت صنعت ہے کہ فطرت ظاہر ہے کہ مستور نزدیک ہے یا دور یہ نار ہے یا نور دنیا سے نرالا یہ بانسری والا گوکل کا گوالا ہے سحر کہ اعجاز کھلتا ہی نہیں راز کیا شان ہے واللہ کیا ...

مزید پڑھیے

ابھی تو میں جوان ہوں

ہوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنم ہزار ہے بہار پر بہار ہے کہاں چلا ہے ساقیا ادھر تو لوٹ ادھر تو آ ارے یہ دیکھتا ہے کیا اٹھا سبو سبو اٹھا سبو اٹھا پیالہ بھر پیالہ بھر کے دے ادھر چمن کی سمت کر نظر سماں تو دیکھ بے خبر وہ کالی کالی بدلیاں افق پہ ہو گئیں عیاں وہ اک ہجوم مے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4044 سے 6203