اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہے
اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہے یہ مری رات کا سویرا ہے رہزنوں سے تو بھاگ نکلا تھا اب مجھے رہبروں نے گھیرا ہے آگے آگے چلو تبر والو ابھی جنگل بہت گھنیرا ہے قافلہ کس کی پیروی میں چلے کون سب سے بڑا لٹیرا ہے سر پہ راہی کے سربراہی نے کیا صفائی کا ہاتھ پھیرا ہے سرمہ آلود خشک آنسوؤں ...