قومی زبان

اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہے

اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہے یہ مری رات کا سویرا ہے رہزنوں سے تو بھاگ نکلا تھا اب مجھے رہبروں نے گھیرا ہے آگے آگے چلو تبر والو ابھی جنگل بہت گھنیرا ہے قافلہ کس کی پیروی میں چلے کون سب سے بڑا لٹیرا ہے سر پہ راہی کے سربراہی نے کیا صفائی کا ہاتھ پھیرا ہے سرمہ آلود خشک آنسوؤں ...

مزید پڑھیے

حیران نہ ہو دیکھ میں کیا دیکھ رہا ہوں

حیران نہ ہو دیکھ میں کیا دیکھ رہا ہوں بندے تری صورت میں خدا دیکھ رہا ہوں وہ اپنی جفاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں میں معنیٔ تسلیم و رضا دیکھ رہا ہوں دزدیدہ نگاہوں سے کدھر دیکھ رہے ہو کیا بات ہے! یہ آج میں کیا دیکھ رہا ہوں ہے حسن یہی شے تو گماں اور نہ کیجے سودا نہیں مطلوب ذرا دیکھ رہا ...

مزید پڑھیے

اٹھو اب دیر ہوتی ہے وہاں چل کر سنور جانا

اٹھو اب دیر ہوتی ہے وہاں چل کر سنور جانا یقینی ہے گھڑی دو میں مریض غم کا مر جانا مجھے ڈر ہے گلوں کے بوجھ سے مرقد نہ دب جائے انہیں عادت ہے جب آنا ضرور احسان دھر جانا حباب آ سامنے سب ولولے جوش جوانی کے غضب تھا قلزم امید کا چڑھ کر اتر جانا یہاں جز کشتیٔ موج بلا کچھ بھی نہ پاؤ گے اسی ...

مزید پڑھیے

مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھے

مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھے عشق میں بھول گیا کچھ نہ رہا یاد مجھے کیا میں دیوانہ ہوں یارب کہ سر راہ گزر دور سے گھورنے لگتے ہیں پری زاد مجھے اب ہے آواز کی وہ شان نہ بازو کی اڑان اور صیاد کیے دیتا ہے آزاد مجھے داد خواہی کے لیے اور تو ساماں نہ ملا نالہ و آہ پہ رکھنی پڑی بنیاد ...

مزید پڑھیے

اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا

اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا لخت جگر کو خاک میں دفنا کے آ گیا ہر ہم سفر پہ خضر کا دھوکا ہوا مجھے آب بقا کی راہ سے کترا کے آ گیا حور لحد نے چھین لیا تجھ کو اور میں اپنا سا منہ لیے ہوئے شرما کے آ گیا دل لے گیا مجھے تری تربت پہ بار بار آواز دے کے بیٹھ کے اکتا کے آ گیا رویا کہ تھا ...

مزید پڑھیے

مجاز عین حقیقت ہے با صفا کے لیے

مجاز عین حقیقت ہے با صفا کے لیے بتوں کو دیکھ رہا ہوں مگر خدا کے لیے اثر میں ہو گئے کیوں سات آسماں حائل ابھی تو ہاتھ اٹھے ہی نہیں دعا کے لیے ہوا بس ایک ہی نالے میں دم فنا اپنا یہ تازیانہ تھا عمر گریز پا کے لیے الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے ہمیں ...

مزید پڑھیے

مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا

مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا مرے دیدہ و دل کو آباد رکھنا بھلائی نہیں جا سکیں گی یہ باتیں تمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا وہ ناشاد و برباد رکھتے ہیں مجھ کو الٰہی انہیں شاد و آباد رکھنا تمہیں بھی قسم ہے کہ جو سر جھکا دے اسی کو تہ تیغ بیداد رکھنا ملیں گے تمہیں راہ میں بت کدے ...

مزید پڑھیے

سونے والو جاگو

جاگو سونے والو جاگو وقت کے کھونے والو جاگو باغ میں چڑیاں بول رہی ہیں کلیاں آنکھیں کھول رہی ہیں پھول خوشی سے جھوم رہے ہیں پتوں کا منہ چوم رہے ہیں جاگ اٹھے دریا اور نہریں جاگ اٹھیں موجیں اور لہریں ناؤ چلانے والے جاگے پار لگانے والے جاگے ساری دنیا جاگ رہی ہے کام کی جانب بھاگ رہی ...

مزید پڑھیے

گوٹے کی چنری

دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری آ ہا جی گل ناری چنری رنگ رنگیلی پیاری چنری ململ کی اک تاری چنری نازک نازک ساری چنری دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری امی کے کچھ جی میں آیا گوٹے کا اک تھان منگایا چنری پر سارا چپکایا ہر کونے پر پھول بنایا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری لچکا ہے ہاتھوں میں لچکتا گوٹا ہے ...

مزید پڑھیے

طوفانی کشتی

دریا چڑھاؤ پر ہے اور بوجھ ناؤ پر ہے پہنائے آب سارا ہے کوچ کا اشارا ہوش آزما نظارا موجوں کے منہ میں کف ہے اک شور ہر طرف ہے مرگ آفریں ہے دھارا اور دور ہے کنارا کوئی نہیں سہارا تیغ آزما ہیں لہریں تیغیں ہیں یا ہیں لہریں توبہ ہوا کی تیزی موج فنا کی تیزی ہے کس بلا کی تیزی تدبیر ناخدا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4046 سے 6203