آیا تھا بزم شعر میں عرض ہنر کو میں
آیا تھا بزم شعر میں عرض ہنر کو میں اب جا رہا ہوں ڈھونڈنے اہل نظر کو میں سر پھوڑنا کمال جنوں بھی نہیں رہا بیٹھا رہوں گا سر میں لیے درد سر کو میں
آیا تھا بزم شعر میں عرض ہنر کو میں اب جا رہا ہوں ڈھونڈنے اہل نظر کو میں سر پھوڑنا کمال جنوں بھی نہیں رہا بیٹھا رہوں گا سر میں لیے درد سر کو میں
حیران ہو کے منہ مرا تکتے ہیں بار بار احساں کیا یہ گریۂ بے اختیار نے اغیار سے بھی کرنے لگے وعدہ ہائے حشر عادت بگاڑ دی ہے مرے اعتبار نے
(۱) گرم جوشی اب سورج سر پر آ دھمکے گا ٹھنڈا لوہا چمکے گا اور دھوپ جواں ہو جائے گی سٹھیائے ہوئے فرزانوں پر اب زیست گراں ہو جائے گی ہر اصل عیاں ہو جائے گی اب خوب ہنسے گا دیوانہ اب آگ بگولے ناچیں گے سب لنگڑے لولے ناچیں گے گرداب بلا بن جائیں گے روندی ہوئی مٹی کے ذرے طوفان بہ پا بن ...
امارت اور شوکت اور سرمائے کی تصویریں یہ ایوانات سب ہیں حال ہی کی تازہ تعمیریں ادھر کچھ فاصلے پر چند گھر تھے کاشت کاروں کے جہاں اب کارخانے بن گئے سرمایہ داروں کے مویشی ہو گئے نیلام کیوں یہ کوئی کیا جانے کچہری جانے ساہوکار جانے یا خدا جانے زمیں داروں کو جا کر دیکھ لے جو بھی ...
فندک فندک فندک فک دھنک دھنک دھن دھنک دھنک تانت بجی اور نکلا راگ روئی بنی صابن کا جھاگ کیسی چھنتی جاتی ہے بادل بنتی جاتی ہے کتنا ڈھیر ہوا آہا میں اس ڈھیر پہ کودوں گا کوئی چوٹ نہ آئے گی روئی مگر دب جائے گی اتی روئی اتنا ڈھیر ہو گئی بارہ تیرہ سیر لے اب روئی ہو گئی صاف بھر لے تکیے اور ...
اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا لخت جگر کو خاک میں دفنا کے آ گیا ہر ہم سفر پہ خضر کا دھوکا ہوا مجھے آب بقا کی راہ سے کترا کے آ گیا حور لحد نے چھین لیا تجھ کو اور میں اپنا سا منہ لیے ہوئے شرما کے آ گیا دل لے گیا مجھے تری تربت پہ بار بار آواز دے کے بیٹھ کے اکتا کے آ گیا رویا کہ تھا جہیز ...
ننھی ہو تم بچی ہو تم سب عقل کی کچی ہو تم آؤ مری باتیں سنو چالیں سنو گھاتیں سنو استاد کی ہر بات کو اپنی گرہ میں باندھ لو جب تم جواں ہو جاؤ گی مچھلی کی ماں ہو جاؤ گی پھر یاد آئیں گی تمہیں لہرے دکھائیں گی تمہیں باتیں ہماری مچھلیو اے پیاری پیاری مچھلیو روہو کی بیٹی کان دھر سانول کی بچی ...
ایک بے تکی نظم آج بستر ہی میں ہوں کر دیا ہے آج میرے مضمحل اعضا نے اظہار بغاوت برملا میرا جسم ناتواں میرا غلام باوفا واقعی معلوم ہوتا ہے تھکا ہارا ہوا اور میں ایک سخت گیر آقا۔۔۔ زمانے کا غلام کس قدر مجبور ہوں پیٹ پوجا کے لیے دو قدم بھی اٹھ کے جا سکتا نہیں میرے چا کر پاؤں شل ہیں جھک ...
یوں وقت گزرتا ہے فرصت کی تمنا میں جس طرح کوئی پتا بہتا ہوا دریا میں ساحل کے قریب آ کر چاہے کہ ٹھہر جاؤں اور سیر ذرا کر لوں اس عکس مشجر کی جو دامن دریا پر زیبائش دریا ہے یا باد کا وہ جھونکا جو وقف روانی ہے اک باغ کے گوشے میں چاہے کہ یہاں دم لوں دامن کو ذرا بھر لوں اس پھول کی خوشبو ...
آگے پیچھے دائیں بائیں کائیں کائیں کائیں کائیں صبح سویرے نور کے تڑکے منہ دھو دھا کر ننھے لڑکے بیٹھتے ہیں جب کھانا کھانے کوے لگتے ہیں منڈلانے توبہ توبہ ڈھیٹ ہیں کتنے کوے ہیں یا کالے فتنے لاکھ ہنکاؤ لاکھ اڑاؤ منہ سے چیخو ہاتھ ہلاؤ گھورو گھڑکو یا دھتکارو کوئی چیز اٹھا کر مارو کوے ...