اجنبیوں کے شہر میں گم ہوں مگر میں کون ہوں
اجنبیوں کے شہر میں گم ہوں مگر میں کون ہوں دیدہ و دل کی ہے تلاش کس کو خبر میں کون ہوں اپنی نگاہ کے سوا کچھ بھی نہیں میں دیکھتا مجھ کو بھی دیکھنا ذرا اہل نظر میں کون ہوں
اجنبیوں کے شہر میں گم ہوں مگر میں کون ہوں دیدہ و دل کی ہے تلاش کس کو خبر میں کون ہوں اپنی نگاہ کے سوا کچھ بھی نہیں میں دیکھتا مجھ کو بھی دیکھنا ذرا اہل نظر میں کون ہوں
میرے آقا تجھے بندے کا خیال آ ہی گیا آخر کار مرا یوم وصال آ ہی گیا بے تکلف اسے جانا غلطی ہو ہی گئی غلطی ہو ہی گئی لب پہ سوال آ ہی گیا
جو مرے دل میں ہے کہنے دیجیے یا مجھے خاموش رہنے دیجیے پھول ہوں کانٹا ہوں جو کچھ ہوں مجھے آنسوؤں کی رو میں بہنے دیجیے
حیات جاوداں ہم کیا کریں گے جہاں تم ہو وہاں ہم کیا کریں گے کہے گی کیا ہماری بے زبانی بوقت امتحاں ہم کیا کریں گے
مدفن غریباں ہے آؤ فاتحہ پڑھ لیں ہم رہو ٹھہر جاؤ دوستوں کی بستی ہے تھا ابال مستی کا سر بلند ماضی میں حال دیکھنا اپنا انتہا کی پستی ہے
ذکر استاد فن کا جانے دے کسی نقاد فن کا حال سنا خالقان سخن کی فکر نہ کر قاتلان سخن کی چال سنا
حسن کی آنکھ اگر حیا نہ کرے عشق زندہ رہے خدا نہ کرے کس قدر بے کسی کا عالم ہے چاہتا ہوں کوئی دعا نہ کرے
پار اترا ہوں کس قرینے سے موج اٹھا لے گئی سفینے سے آنسوؤ کیا بنے گا پینے سے جی ہی اکتا گیا ہے جینے سے
سکون زندگی ترک عمل کا نام ہے شاید نہ خوش ہوتا ہوں آساں سے نہ گھبراتا ہوں مشکل سے جدائی پر بھی حسن و عشق کی وابستگی دیکھو کہ مجنوں آہ کرتا ہے دھواں اٹھتا ہے محمل سے
بت کہتے ہیں مر جا مر جا حکم خدا ہے اور ٹھہر جا ہائے کو نعرۂ ہو سے بدل دے یار حفیظؔ یہ کام تو کر جا