قومی زبان

ہوا کہتی رہی آؤ

ہوا کہتی رہی آؤ چلو اس شاخ کو چھو لیں ادھر اس پیڑ کے پتوں میں چھپ کر تالیاں پیٹیں گریں اٹھیں لڑھک کر نہر میں اتریں نہائیں مخملیں سبزے یہ ننگے پاؤں چل کر دور تک جائیں ہوا کہتی رہی آؤ مگر میں خشک چھاگل اپنے دانتوں میں دبائے پیاس کی برہم سپہ سے لڑ رہا تھا میں کہاں جاتا مجھے سورج کے ...

مزید پڑھیے

آنسو کی چلمن کے پیچھے

ہنسی رکی تو پھر سے ماؤں پنجوں کے بل چلتی چلتی بازو کے ریشم پہ پھسلتی گردن کی گھاٹی سے ہو کر کان کی دیواروں پر چڑھتی اندر کے دالان میں کودی اور بدن اک ساغر سا بیمار بدن سارے کا سارا ہنسی کی چڑھتی ندی کی آفات بھری لذت کے اندر جھٹکے کھاتا چیخ اٹھا بس ابو روکو اس ماؤں کو ابو آگے مت ...

مزید پڑھیے

دیواریں

صدیوں گنگ رہیں دیواریں اور پھر اک شب جانے کیسے دیواروں پر لفظوں کے انگارے چمکے انگاروں نے مل جل کر شعلے بھڑکائے سارے شہر میں آگ لگی کاغذ کے ملبوس جلے کالے ننگے جسموں سے بازار بھرے آوازوں کے جھکڑ آئے بادل چیخا آنگن کے بے داغ بدن پر جلی ہوئی ہڈیوں کے اولے پتھر بن کر برس پڑے اگلے دن ...

مزید پڑھیے

ساری عمر گنوا دی ہم نے

ساری عمر گنوا دی ہم نے پر اتنی سی بات بھی ہم نہ جان سکے کھڑکی کا پٹ کھلتے ہی جو لش لش کرتا ایک چمکتا منظر ہم کو دکھتا ہے کیا وہ منظر کھڑکی کی چوکھٹ سے باہر سبز پہاڑی کے قدموں میں اک شفاف ندی سے چمٹے پتھر پر چپ چاپ کھڑے اک پیکر کا گم صم منظر ہے جس کو کھڑکی کے کھلنے نہ کھلنے سے کچھ غرض ...

مزید پڑھیے

سفر

تھکا ہارا بے جان بادل کا ٹکڑا درختوں چٹانوں سے دامن بچاتا پہاڑی کے کوہان سے نیچے اترا بہت تھک چکا تھا ہزاروں برس کی مسافت ہزاروں برس تک بس اک دھن مسلط بڑھے آگے بڑھ کر پہاڑوں درختوں نکیلی چٹانوں ہوا کی نہتی سسکتی ہوئی کرب میں ڈوبی چیخوں کو مٹھی میں لے کر مسل کر بڑی سادگی سے ہنسے ...

مزید پڑھیے

اک تنہا بے برگ شجر

کون مجھے دکھ دے سکتا ہے دکھ تو میرے اندر کی کشت ویراں کا اک تنا بے برگ شجر ہے رت کی نازک لانبی پوریں کرنیں خوشبو چاپ ہوائیں جسموں پر جب رینگنے پھرنے لگتی ہیں میرے اندر دکھ کا سویا پیڑ بھی جاگ اٹھتا ہے تنگ مساموں کے غرفوں سے لمبی نازک شاخیں پھن پھیلا کر تن کی اندھی شریانوں میں قدم ...

مزید پڑھیے

چنا ہم نے پہاڑی راستہ

چنا ہم نے پہاڑی راستہ اور سمت کا بھاری سلاسل توڑ کر سمتوں کی نیرنگی سے ہم واقف ہوئے ابھری چٹانوں سے لڑھکنے گھاٹیوں سے کروٹیں لینے کی اک بگڑی روش ہم نے بھی اپنائی کھڈوں کی تہ میں بہتے پانیوں سے ہم نے چلنے کا چلن سیکھا درختوں اور پھولوں سے قطاریں توڑنے کی اور ہوا سے منہ اٹھا کر ...

مزید پڑھیے

بندھن

درخت دن رات کانپتے ہیں پرند کتنے ڈرے ہوئے ہیں فلک پہ تارے زمیں پہ جگنو گھروں کے اندر چھپے خزانے کٹے پھٹے سب بدن پرانے قدیم چکنی طویل ڈوری میں بندھ گئے ہیں کثیف ڈر کی غلیظ مٹھی میں آ گئے ہیں کہاں گئے وہ دلوں کے بندھن گلاب ہونٹوں کی نرم قوسیں زمیں جو راکھی سی بن کے سورج کے ہاتھ پر ...

مزید پڑھیے

جنگل

کیڑے پیڑوں کے جنگل میں پتوں کی کالی دیواریں دیواروں میں لاکھوں روزن روزن آنکھیں ہیں جنگل کی وحشی آنکھیں ہیں جنگل کی تو راہی انجان مسافر جنگل کا آغاز نہ آخر سب رستے ناپید ہیں اس کے سب راہیں مسدود سراسر تو راہی جگنو سا پیکر ہار چکا جنگل سے لڑ کر اب آنسو کا دیا جلائے تو گم کردہ راہ ...

مزید پڑھیے

ترغیب

کبھی تم جو آؤ تو میں صبح کے چھٹپٹے میں تمہیں سب سے اونچی عمارت کی چھت سے دکھاؤں درختوں کے اک سبز کمبل میں لپٹا ہوا شہر سارا کلس اور محراب کے درمیاں اڑنے والے مقدس کبوتر بہت دور چاندی کے اک تار ایسی ندی اس سے آگے جری کوہساروں کا اک سرمئی سلسلہ کبھی تم جو آؤ تو میں ایک تپتی ہوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 403 سے 6203