قومی زبان

سکتہ

اگر وہ مرحلہ آئے ہوا جب سانس لینا بھول جائے مسافر چلتے چلتے رک پڑے سوچے مجھے اب کون سی منزل کو جانا ہے پرندہ آسماں پر دائرہ در دائرہ اڑتا سفیدی کے مہا گرداب کے اندر اتر جائے مندی آنکھوں میں جب خوابوں کا اک موج ساگر ریت کی شکنوں میں ڈھل کر ریت ہو جائے اگر وہ مرحلہ آئے تو تم اپنی نظر ...

مزید پڑھیے

ہوا کہتی رہی آؤ

ہوا کہتی رہی آؤ چلو اس کھیت کو چھو لیں ادھر اس پیڑ کے پتوں میں چھپ کر تالیاں پیٹیں گریں اٹھیں لڑھک کر نہر میں اتریں نہائیں مخملیں سبزے پہ ننگے پاؤں چل کر دور تک جائیں ہوا کہتی رہی آؤ مگر میں خشک چھاگل اپنے دانتوں میں دبائے پیاس کی برہم سپہ سے لڑ رہا تھا میں کہاں جاتا مجھے سورج کے ...

مزید پڑھیے

کراں تا کراں

جو مزہ چاہت میں ہے حاصل میں اس کو ڈھونڈھنا بے کار ہے ہو کہاں تم کس جہاں میں کیوں مجھے معلوم ہو؟ دھند میں ہو خواب میں یا آسماں کی قوس میں یا موج کی گردش میں ہو تم ہاتھ کی ریکھا کے اندر ہو کہیں یا دور سناٹوں کے ٹکراؤ سے پیدا ان سنی آواز کی ریزش میں ہو چاہے کہیں بھی ہو مری چاہت کے پھیلے ...

مزید پڑھیے

رات بھر اک صدا

تیز تلوار کی دھار ایسی صدا قطرہ قطرہ مرے خون میں پگھلے سے کے مانند گرتی رہی میری رگ رگ میں گھل کر بکھرتی رہی اور پھرے ہوئے تند ذروں کی صورت مرے جسم میں دوڑتی جھنجھناتی پھری صبح ہونے کو ہے کوئی دم میں یہ زخموں بھری رات کی گرم چادر اجالے کے صابن میں دھل کر نکھر آئے گی ہر طرف نرم و ...

مزید پڑھیے

ہتک

آنکھ ہنسی پھر کالی کلوٹی رات ہنسی پھر رات کا پنچھی پھڑ پھڑ کرتا میرے اوپر منڈلایا اور ننگے مست پہاڑ نے یک دم آنکھ جھکا کر بھاری پتھر لڑھکایا وہ پتھر دوسرے پتھر سے ٹکرا کر ٹوٹا لڑھک گیا پھر اس کے سخت نکیلے ٹکڑے لاکھوں لڑھکتے ٹکڑوں کا سیلاب بنے اور ننگا مست پہاڑ ہنسا گرداب ...

مزید پڑھیے

اس کے دشمن

سحر ہوئی تو کسی نے اٹھ کر لہو میں تر ایک سرخ بوٹی بڑی کراہت سے آسماں کے فراخ آنگن میں پھینک دی اور طویل متلی کی جان لیوا سی کیفیت سے نجات پائی مگر فلک کے فراخ آنگن میں بادلوں کے سفید سگ اس کے منتظر تھے جھپٹ پڑے اس لہو میں تر دل کے لوتھڑے پر جھپٹ پڑے ایک دوسرے پر زمین کے لوگوں نے دیر ...

مزید پڑھیے

نشر گاہ

فقط اپنے ہونے کا اعلان میں نے کیا پر نہ سوچا کہاں سے چلا تھا کہاں آ کے ٹھہرا میں کس منزل بے نشاں کی طرف اب رواں ہوں مجھے خشک بد رنگ چمڑے پہ لکھے سوالوں سے رغبت نہیں تھی میں منطق کی ورزش سے خود کو تھکانا نہیں چاہتا تھا فقط اپنے ہونے کا اعلان میں نے کیا اور دیکھا فلک کی سیہ گہری سوکھی ...

مزید پڑھیے

عجیب ہے یہ سلسلہ

عجیب ہے یہ سلسلہ یہ سلسلہ عجیب ہے ہوا چلے تو کھیتیوں میں دھوم چہچہوں کی ہے ہوا رکے تو مردنی ہے مردنی کی راکھ کا نزول ہے کہاں ہے تو کہاں ہے تو کہاں نہیں ہے تو بتا ابھی تھا تیرے گرتے اڑتے آنچلوں کا سلسلہ اور اب افق پر دور تک گئے دنوں کی دھول ہے گئے دنوں کی دھول کا یہ سلسلہ فضول ہے میں ...

مزید پڑھیے

سمندر اگر میرے اندر آ گرے

سمندر اگر میرے اندر آ گرے تو پایاب لہروں میں ڈھل کے سلگنے لگے پیاس کے بے نشاں دشت میں وہیل مچھلی کی صورت تڑپنے لگے ہارپونوں سے نیزوں سے چھلنی بدن پر دہکتی ہوئی ریت کے تیز چر کے سہے اور پھر ریت پر جھاگ کے کچھ نشاں چھوڑ کر تا ابد سر بریدہ سے ساحل کے سائے میں ہونے نہ ہونے کی میٹھی ...

مزید پڑھیے

حادثہ

بے آواز تھے آنسو اس کے چھوٹے چھوٹے پیر تھے اس کے تن جیسے روئی کا گالا رنگ تھا کالا ندی کنارے تک پیروں کے سارے نشان سلامت تھے پار ندی کے کچھ بھی نہیں تھا پار ندی کے کچھ بھی نہیں ہے ساری راہیں ندیا کے اندر جاتی ہیں اور پھر وہیں کی ہو جاتی ہیں چھوٹے چھوٹے پیر برہنہ ریت کے اوپر پھول ...

مزید پڑھیے
صفحہ 402 سے 6203