سحر نے آ کر مجھے سلایا تو میں نے جانا
سحر نے آ کر مجھے سلایا تو میں نے جانا پھر ایک سپنا مجھے دکھایا تو میں نے جانا بجز ہوا اب رکے گا کوئی نہ پاس میرے اندھیری شب میں دیا بجھایا تو میں نے جانا گیا یہ کہہ کر کہ ایک شب کی ہے بات ساری مگر وہ جب لوٹ کر نہ آیا تو میں نے جانا میں ایک تنکا رکا کھڑا تھا ندی کنارے ندی نے بہنا ...