مستقبل
تیرے لئے میں کیا کیا صدمے سہتا ہوں سنگینوں کے راج میں بھی سچ کہتا ہوں میری راہ میں مصلحتوں کے پھول بھی ہیں تیری خاطر کانٹے چنتا رہوں گا تو آئے گا اسی آس پہ جھوم رہا ہے دل دیکھ اے مستقبل اک اک کر کے سارے ساتھی چھوڑ گئے مجھ سے میرے رہبر بھی منہ موڑ گئے سوچتا ہوں بے کار گلہ ہے غیروں ...