قومی زبان

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے ہم ترا شہر چھوڑ جائیں گے دور افتادہ بستیوں میں کہیں تیری یادوں سے لو لگائیں گے شمع ماہ و نجوم گل کر کے آنسوؤں کے دیئے جلائیں گے آخری بار اک غزل سن لو آخری بار ہم سنائیں گے صورت موجۂ ہوا جالبؔ ساری دنیا کی خاک اڑائیں گے

مزید پڑھیے

اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ

اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ میری طرح وفا کا پرستار مصحفیؔ رہتا تھا کج کلاہ امیروں کے درمیاں یکسر لئے ہوئے مرا کردار مصحفیؔ دیتے ہیں داد غیر کو کب اہل لکھنؤ کب داد کا تھا ان سے طلب گار مصحفیؔ نا قدریٔ جہاں سے کئی بار آ کے تنگ اک عمر شعر سے رہا بیزار مصحفیؔ دربار میں تھا بار ...

مزید پڑھیے

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں اے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا یہ ...

مزید پڑھیے

دستور

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات کو جہل کی رات کو میں نہیں ...

مزید پڑھیے

نیلو

تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے تجھ کو انکار کی جرأت جو ہوئی تو کیوں کر سایۂ شاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے اہل ثروت کی یہ تجویز ہے سرکش لڑکی تجھ کو دربار میں کوڑوں سے نچایا جائے ناچتے ناچتے ہو جائے جو پائل خاموش پھر نہ تا زیست تجھے ہوش میں لایا ...

مزید پڑھیے

بگیا لہولہان

ہریالی کو آنکھیں ترسیں بگیا لہولہان پیار کے گیت سناؤں کس کو شہر ہوئے ویران بگیا لہولہان ڈستی ہیں سورج کی کرنیں چاند جلائے جان پگ پگ موت کے گہرے سائے جیون موت سمان چاروں اور ہوا پھرتی ہے لے کے تیر کمان بگیا لہولہان چھلنی ہیں کلیوں کے سینے خون میں لت پت پات اور نہ جانے کب تک ہوگی ...

مزید پڑھیے

داستان دل دو نیم

اک حسیں گاؤں تھا کنار آب کتنا شاداب تھا دیار آب کیا عجب بے نیاز بستی تھی مفلسی میں بھی ایک مستی تھی کتنے دل دار تھے ہمارے دوست وہ بچارے وہ بے سہارے دوست اپنا اک دائرہ تھا دھرتی تھی زندگی چین سے گزرتی تھی قصہ جب یوسف و زلیخا کا میٹھے میٹھے سروں میں چھڑتا تھا قصر شاہوں کے ہلنے لگتے ...

مزید پڑھیے

جواں آگ

گولیوں سے یہ جواں آگ نہ بجھ پائے گی گیس پھینکو گے تو کچھ اور بھی لہرائے گی یہ جواں آگ جو ہر شہر میں جاگ اٹھی ہے تیرگی دیکھ کے اس آگ کو بھاگ اٹھی ہے کب تلک اس سے بچاؤ گے تم اپنے داماں یہ جواں آگ جلا دے گی تمہارے ایواں یہ جواں خون بہایا ہے جو تم نے اکثر یہ جواں خون نکل آیا ہے بن کے ...

مزید پڑھیے

جمہوریت

دس کروڑ انسانو! زندگی سے بیگانو! صرف چند لوگوں نے حق تمہارا چھینا ہے خاک ایسے جینے پر یہ بھی کوئی جینا ہے بے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیں سوچتا ہوں یہ ناداں کس ہوا میں رہتے ہیں اور یہ قصیدہ گو فکر ہے یہی جن کو ہاتھ میں علم لے کر تم نہ اٹھ سکو لوگو کب تلک یہ خاموشی چلتے پھرتے ...

مزید پڑھیے

ملاقات

جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں مرے دل کو جو تیری نگاہوں میں شکایت مری جاں تھی گھر میں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی یکساں ہیں مری جان قفس اور نشیمن انسان کی توقیر یہاں ہے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4016 سے 6203