قومی زبان

لائل پور

لائل پور اک شہر ہے جس میں دل ہے مرا آباد دھڑکن دھڑکن ساتھ رہے گی اس بستی کی یاد میٹھے بولوں کی وہ نگری گیتوں کا سنسار ہنستے بستے ہائے وہ رستے نغمہ ریز دیار وہ گلیاں وہ پھول وہ کلیاں رنگ بھرے بازار میں نے ان گلیوں پھولوں کلیوں سے کیا ہے پیار برگ آوارہ میں بکھری ہے جس کی روداد لائل ...

مزید پڑھیے

ملکۂ ترنم نور جہاں کی نذر

نغمہ بھی ہے اداس تو سر بھی ہے بے اماں رہنے دو کچھ تو نور اندھیروں کے درمیاں اک عمر جس نے چین دیا اس جہان کو لینے دو سکھ کا سانس اسے بھی سر جہاں تیار کون ہے جو مجھے بازوؤں میں لے اک یہ نوا نہ ہو تو کہو جاؤں میں کہاں اگلے جہاں سے مجھ کو یہی اختلاف ہے یہ صورتیں یہ گیت صدائیں کہاں ...

مزید پڑھیے

ممتاز

قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو اپنے ہونٹوں کی خوشبو لٹانے چلو گیت گانے چلو ورنہ تھانے چلو منتظر ہیں تمہارے شکاری وہاں کیف کا ہے سماں اپنے جلووں سے محفل سجانے چلو مسکرانے چلو ورنہ تھانے چلو حاکموں کو بہت تم پسند آئی ہو ذہن پر چھائی ہو جسم کی لو سے شمعیں ...

مزید پڑھیے

ریفرنڈم

شہر میں ہو کا عالم تھا جن تھا یا ریفرنڈم تھا قید تھے دیواروں میں لوگ باہر شور بہت کم تھا کچھ با ریش سے چہرے تھے اور ایمان کا ماتم تھا مرحومین شریک ہوئے سچائی کا چہلم تھا دن انیس دسمبر کا بے معنی بے ہنگم تھا یا وعدہ تھا حاکم کا یا اخباری کالم تھا

مزید پڑھیے

حسب فرمائش

میں تجھے پھول کہوں اور کہوں بھنوروں سے آؤ اس پھول کا رس چوس کے ناچو‌‌ جھومو میں تجھے شمع کہوں اور کہوں پروانو آؤ اس شمع کے ہونٹوں کو خوشی سے چومو میں تری آنکھ کو تشبیہ دوں میخانے سے اور خود زہر جدائی کا طلب گار رہوں غیر سوئے تری زلفوں کی گھنی چھاؤں میں اور میں چاندنی راتوں میں ...

مزید پڑھیے

میری بچی

میری بچی میں آؤں نہ آؤں آنے والا زمانہ ہے تیرا تیرے ننھے سے دل کو دکھوں نے میں نے مانا کہ ہے آج گھیرا آنے والا زمانہ ہے تیرا تیری آشا کی بگیا کھلے گی چاند کی تجھ کو گڑیا ملے گی تیری آنکھوں میں آنسو نہ ہوں گے ختم ہوگا ستم کا اندھیرا آنے والا زمانہ ہے تیرا درد کی رات ہے کوئی دم ...

مزید پڑھیے

ننھی جا سو جا

جب دیکھو تو پاس کھڑی ہے ننھی جا سو جا تجھے بلاتی ہے سپنوں کی نگری جا سو جا غصے سے کیوں گھور رہی ہے میں آ جاؤں گا کہہ جو دیا ہے تیرے لیے اک گڑیا لاؤں گا گئی نہ ضد کرنے کی عادت تیری جا سو جا ننھی جا سو جا ان کالے دروازوں سے مت لگ کے دیکھ مجھے اڑ جاتی ہے نیند آنکھوں سے پا کر پاس ...

مزید پڑھیے

سچ ہی لکھتے جانا

دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا مت گھبرانا مت ڈر جانا سچ ہی لکھتے جانا باطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیں وہ شمعیں روشن کر جانا سچ ہی لکھتے جانا پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دینا کیا جھکنا آخر سب کو ہے مر جانا سچ ہی لکھتے جانا لوح جہاں پر نام تمہارا لکھا رہے گا یوں ...

مزید پڑھیے

شہر ظلمات کو ثبات نہیں

اے نظام کہن کے فرزندو اے شب تار کے جگر بندو یہ شب تار جاوداں تو نہیں یہ شب تار جانے والی ہے تا بہ کے تیرگی کے افسانے صبح نو مسکرانے والی ہے اے شب تار کے جگر گوشو اے سحر دشمنو ستم گوشو صبح کا آفتاب چمکے گا ٹوٹ جائے گا جہل کا جادو پھیل جائے گی ان دیاروں میں علم و دانش کی روشنی ہر ...

مزید پڑھیے

عہد سزا

یہ ایک عہد سزا ہے جزا کی بات نہ کر دعا سے ہاتھ اٹھا رکھ دوا کی بات نہ کر خدا کے نام پہ ظالم نہیں یہ ظلم روا مجھے جو چاہے سزا دے خدا کی بات نہ کر حیات اب تو انہیں محبسوں میں گزرے گی ستم گروں سے کوئی التجا کی بات نہ کر انہی کے ہاتھ میں پتھر ہیں جن کو پیار کیا یہ دیکھ حشر ہمارا وفا کی بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4014 سے 6203