غم کے سانچے میں ڈھل سکو تو چلو
غم کے سانچے میں ڈھل سکو تو چلو تم مرے ساتھ چل سکو تو چلو دور تک تیرگی میں چلنا ہے صورت شمع جل سکو تو چلو
غم کے سانچے میں ڈھل سکو تو چلو تم مرے ساتھ چل سکو تو چلو دور تک تیرگی میں چلنا ہے صورت شمع جل سکو تو چلو
زلف کی بات کیے جاتے ہیں دن کو یوں رات کیے جاتے ہیں چند آنسو ہیں انہیں بھی جالبؔ نذر حالات کیے جاتے ہیں
پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیرؔ پہنیں سوٹ انگریزی بولیں اور کہلائیں میرؔ چودھریوں کی مٹھی میں ہے شاعر کی تقدیر روئے بھگت کبیر اک دوجے کو جاہل سمجھیں نٹ کھٹ بدھی وان میٹرو میں جو چائے پلائے بس وہ باپ سمان سب سے اچھا شاعر وہ ہے جس کا یار مدیر روئے بھگت کبیر سڑکوں پر ...
اے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہم اب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علم یہ محلات یہ اونچے اونچے مکاں ان کی بنیاد میں ہے ہمارا لہو کل جو مہمان تھے گھر کے مالک بنے شاہ بھی ہے عدو شیخ بھی ہے عدو کب تلک ہم سہیں غاصبوں کے ستم اے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہم اب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علم اتنا ...
خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہے اسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہے لہو پیو گے کہاں تک ہمارا دھنوانو بڑھاؤ اپنی دکاں سیم و زر کے دیوانو نشاں کہیں نہ رہے گا تمہارا شیطانو ہمیں یقیں ہے کہ انسان اس کو پیارا ہے خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہے اسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہے نئے شعور کی ہے ...
دل کی کونپل ہری تیرے ہونے سے ہے زندگی زندگی تیرے ہونے سے ہے کشت زاروں میں تو کارخانوں میں تو ان زمینوں میں تو آسمانوں میں تو شعر میں نثر میں داستانوں میں تو شہر و صحرا میں تو اور چٹانوں میں تو حسن صورت-گری تیرے ہونے سے ہے زندگی زندگی تیرے ہونے سے ہے تجھ سے ہے آفرینش نمو ...
قوم کی بہتری کا چھوڑ خیال فکر تعمیر ملک دل سے نکال تیرا پرچم ہے تیرا دست سوال بے ضمیری کا اور کیا ہو مآل اب قلم سے ازار بند ہی ڈال تنگ کر دے غریب پر یہ زمیں خم ہی رکھ آستان زر پہ جبیں عیب کا دور ہے ہنر کا نہیں آج حسن کمال کو ہے زوال اب قلم سے ازار بند ہی ڈال کیوں یہاں صبح نو کی بات ...
ہجوم یاس میں جوت آس کی تری آواز ہم اہل درد کی ہے زندگی تری آواز لبوں پہ کھلتے رہیں پھول شعر و نغمہ کے فضا میں رنگ بکھیرے یونہی تری آواز دیار دیدۂ و دل میں ہے روشنی تجھ سے ہے چہرہ چاند مدھر چاندنی تری آواز ہو ناز کیوں نہ مقدر پہ اپنے نورؔجہاں تجھے قریب سے دیکھا سنی تری آواز نہ مٹ ...
دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقاد بحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتار صرف ادب کے غم میں غلطاں چلنے پھرنے سے لاچار چہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیمار اردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر میرؔ و غالبؔ آدھا جوشؔ یا اک آدھ کسی کا مصرعہ یا اقبالؔ کے چند اشعار یا پھر نظم ...
سلام اے دل فگار لوگو سلام اے اشک بار لوگو تمہی نے اپنا وطن بچایا تمہی نے باطل کا سر جھکایا بجھا کے شمع حیات اپنی وفا کی راہوں کو جگمگایا مگر یہ دل رو کے کہہ رہا ہے لہو تمہارا نہ رنگ لایا وہی ہے شب کا حصار لوگو سلام اے اشک بار لوگو گلوں کی وادی لہو لہو ہے فغاں کی آواز چار سو ...