جہاں آساں تھا دن کو رات کرنا
جہاں آساں تھا دن کو رات کرنا وہ گلیاں ہو گئی ہیں ایک سپنا اب ان کی یاد ہے پلکوں پہ روشن اب ان کو کہہ نہیں سکتے ہم اپنا
جہاں آساں تھا دن کو رات کرنا وہ گلیاں ہو گئی ہیں ایک سپنا اب ان کی یاد ہے پلکوں پہ روشن اب ان کو کہہ نہیں سکتے ہم اپنا
دیار سبزہ و گل سے نکل کر دل و جاں نذر صحرا ہو گئے ہیں کہاں وہ چاند سی ہنستی جبینیں گھنی تاریکیوں میں کھو گئے ہیں
بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی یہ دل کے مرے ٹکڑے یوں روئے مرے ہوتے میں دور کھڑی دیکھوں یہ مجھ سے نہیں ہوگا میں دور کھڑی دیکھوں اور اہل ستم کھیلیں خوں سے مرے بچوں کے دن رات یہاں ہولی بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی یہ دل کے مرے ٹکڑے یوں روئیں مرے ہوتے میں دور کھڑی ...
اک پٹری پر سردی میں اپنی تقدیر کو روئے دوجا زلفوں کی چھاؤں میں سکھ کی سیج پہ سوئے راج سنگھاسن پر اک بیٹھا اور اک اس کا داس بھئے کبیر اداس اونچے اونچے ایوانوں میں مورکھ حکم چلائیں قدم قدم پر اس نگری میں پنڈت دھکے کھائیں دھرتی پر بھگوان بنے ہیں دھن ہے جن کے پاس بھئے کبیر اداس گیت ...
ایک عورت جو میرے لیے مدتوں شمع کی طرح آنسو بہاتی رہی میری خاطر زمانے سے منہ موڑ کر میرے ہی پیار کے گیت گاتی رہی میرے غم کو مقدر بنائے ہوئے مسکراتی رہی اس کے غم کی کبھی میں نے پروا نہ کی اس نے ہر حال میں نام میرا لیا چھین کر اس کے ہونٹوں کی میں نے ہنسی تیری دہلیز پر اپنا سر رکھ ...
کچے آنگن کا وہ گھر وہ بام و در گاؤں کی پگڈنڈیاں وہ رہ گزر وہ ندی کا سرمئی پانی شجر جا نہیں سکتا بجا ان تک مگر سامنے رہتے ہیں وہ شام و سحر
تیرے مدھر گیتوں کے سہارے بیتے ہیں دن رین ہمارے تیری اگر آواز نہ ہوتی بجھ جاتی جیون کی جوتی تیرے سچے سر ہیں ایسے جیسے سورج چاند ستارے تیرے مدھر گیتوں کے سہارے بیتے ہیں دن رین ہمارے کیا کیا تو نے گیت ہیں گائے سر جب لاگے من جھک جائے تجھ کو سن کر جی اٹھتے ہیں ہم جیسے دکھ درد کے ...
گیت کیا کیا لکھ گیا کیا کیا فسانے کہہ گیا نام یوں ہی تو نہیں اس کا ادب میں رہ گیا ایک تنہائی رہی اس کی انیس زندگی کون جانے کیسے کیسے دکھ وہ تنہا سہہ گیا سوز میراؔ کا ملا جی کو تو میرا جی بنا دل نشیں لکھے سخن اور دھڑکنوں میں رہ گیا درد جتنا بھی اسے بے درد دنیا سے ملا شاعری میں ڈھل گیا ...
مدتیں ہو گئیں خطا کرتے شرم آتی ہے اب دعا کرتے چاند تارے بھی ان کا اے جالبؔ تھرتھراتے ہیں سامنا کرتے
تجھے پایا کہ تجھ کو کھو دیا ہے یہ اکثر سوچ کر دل رو دیا ہے ہمارا داغ دل جائے نہ جائے ترا دامن تو ہم نے دھو دیا ہے