مری نگاہ سے وہ دیکھتے رہے ہیں مجھے
مری نگاہ سے وہ دیکھتے رہے ہیں مجھے رہا ہوں میں بھی کبھی اس نگاہ کا معیار یہاں نہ تلخ نوائی سے کام لو جالبؔ رہین درد نہیں ہیں بستیاں یہ دیار
مری نگاہ سے وہ دیکھتے رہے ہیں مجھے رہا ہوں میں بھی کبھی اس نگاہ کا معیار یہاں نہ تلخ نوائی سے کام لو جالبؔ رہین درد نہیں ہیں بستیاں یہ دیار
آج میں آئینے کے مقابل کھڑا ہوں مسرت کی خواہش مرے واسطے موت کا ذائقہ بن چکی ہے سلگتی ہوئی خواہشوں سے ہراساں بدن جستجو سے گریزاں ہے خوش بختوں کے لئے کامیابی کا کوئی بہانہ نہیں جانتا ہوں کہ میرا سفر ایک دہشت زدہ آرزو کا سفر ہے میری رہ گزر کرب کی رہ گزر ہے
گئے زمانوں سے تیرگی میں بھٹکنے والو ستم کی لمبی سیاہ رات اب گزرنے والی ہے اور مشرق سے رتھ میں بیٹھا ہوا وہ پیکر کہ جس کی آمد کے تم ہمیشہ سے منتظر تھے کہ جس کی آمد کے خواب بن بن کے رات آنکھوں میں کاٹتے تھے سنہری کرنوں کا تاج پہنے نکلنے والا ہے طلوع فردا کی آس میں تیرگی کی راہوں پہ ...
دیدۂ کم صفات اندر سے تو نے دیکھی ہے رات اندر سے خواہش نعرۂ ظفر یابی مجھ کو ہونی ہے مات اندر سے خیر مقدم نہ کر عروس چشم لٹ چکی ہے برات اندر سے اے فریب برون موسم زرد سبز تھے سارے پات اندر سے اپنے ٹھنڈے بدن کو چھوتا ہوں جوں ہی جلتے ہیں ہات اندر سے حسرت داد جستجو نہ رہی ایسی ...
خواہش میوۂ تر ہو یہ ضروری تو نہیں ہر کوئی خلد بدر ہو یہ ضروری تو نہیں تیشۂ غم کو صنم سازئ ہستی سے غرض سنگ وابستۂ در ہو یہ ضروری تو نہیں میں ہوں آلودہ بہ خون جگر و خاک جہاں وہ تری راہ گزر ہو یہ ضروری تو نہیں کچھ جمال کم و کج بینئ خوش چشم بھی ہے سب ترا حسن نظر ہو یہ ضروری تو نہیں اے ...
سر نگاہ بساط جہاں تو کچھ بھی نہیں جہان خود نگر و کج گماں تو کچھ بھی نہیں درود بر سر کرب تغیر موسم غم سیاست اہل جہاں تو کچھ بھی نہیں تمام اصل سخن داد خالق خامہ کمال مبتدئ نیم جاں تو کچھ بھی نہیں تمام حسن سخن خوبی ہائے نکتہ وراں جمال دیدۂ گریہ کناں تو کچھ بھی نہیں بہ پیش جرات ...
سوال تجربۂ کار سخت اٹھنے لگا سو پھر تموج اندوہ بخت اٹھنے لگا بہ کج ادایۂ خوبان ناز عالم سے تیقن دل برگشتۂ بخت اٹھنے لگا دکان و مجلس نا آشنائے جوہر سے یہ ارجمند بہ اسباب و رخت اٹھنے لگا بقدر رمز جہاں فہمۂ نگاہ دل نشین کوچہ و صحرا و تخت اٹھنے لگا بہ التہاب تمنائے دید حاصل ...
غم زدہ میں بھی نہیں اور غمیں تو بھی نہیں اب تو پابند وفا میں بھی نہیں تو بھی نہیں میں بھی افتادۂ انداز تمناۓ حیات یعنی دوشیزۂ فردوس بریں تو بھی نہیں اے شفق خیزئ اجمال سحر صد افسوس عکس تاریکئ شب ہاۓ حزیں تو بھی نہیں میں کہ ہم زاد نشینان حریم خستہ ہائے کاشانۂ بے خس کا مکیں تو بھی ...
شکن آلود ہے پیشانیٔ دوشیزۂ خلد نگہ رضواں بہ دامانئ دوشیزۂ خلد بسط نکتہ پئے کم بینئ چشم عاشق وسعت عالم حیرانئ دوشیزۂ خلد نہ ہوا حاصل دشوارئ کار فرہاد غلغلہ ہائے پشیمانئ دوشیزۂ خلد جادۂ راہ مضافات سخن ہائے دروں ہیں مزین بہ گل افشانئ دوشیزۂ خلد وہ سر بزم بہ آہنگ ستار و ...
گر کبھی فرصت ملے تو دیکھ لینا گل کھلے تو کچھ سمجھ پایا نہ لیکن شکر ہے وہ لب ہلے تو دل کی بات نہ دل میں رکھنا کہہ دینا گر دل ملے تو کہلائیں گے آپ مسیحا میرا کوئی زخم سلے تو منتظر ہیں آپ کسی کے چل دیے ہی قافلے تو صدیوں تک چلتے رہتے ہیں چلنے والے سلسلے تو وہ نہ ہوگا جو ہوا ہے گر ...