قومی زبان

جب بھی اس کی خواہش رکھنا

جب بھی اس کی خواہش رکھنا اچھا ہے کچھ دانش رکھنا لاکھ منع کر دینے پر بھی جاری اپنی کوشش رکھنا میں نے محبت سکھلائی تھی سیکھا کس نے رنجش رکھنا دل مندر مسجد جیسا ہے دل میں نہ کوئی سازش رکھنا خواہش میں سر بھی جاتے ہیں سوچ سمجھ کر خواہش رکھنا چاہت کا مطلب ہوتا ہے دل میں زندہ آتش ...

مزید پڑھیے

کانٹے چننا پھول بچھانا

کانٹے چننا پھول بچھانا رستہ یوں آسان بنانا لاکھ جلایا اس نے لیکن زندہ ہے پھر بھی پروانہ اس کو اپنا کر لینا تو یا پھر اس کا ہی ہو جانا مشورہ بھی کر لیں گے ہم پہلے تو گھر آ جانا حسن تو اک دن ڈھل جاتا ہے حسن پہ اتنا کیا اترانا ٹھوکر میں دنیا رکھا ہے آیا جس کو ٹھوکر کھانا جب ذرا ...

مزید پڑھیے

پہلے چاہت کو تیز کر لے گا

پہلے چاہت کو تیز کر لے گا پھر وہ مجھ سے گریز کر لے گا مسکرائے گا بات کرتے ہوئے بات یوں معنی خیز کر لے گا دو قدم ساتھ وہ چلے گا پھر اپنی رفتار تیز کر لے گا اس کو بیٹی کی شادی کرنی ہے قرض لے کر جہیز کر لے گا جب بھی آلودگی کو دیکھے گا خود کو وہ عطر بیز کر لے گا آئے گا مجھ سے دوستی ...

مزید پڑھیے

جادو ٹونا جانتا ہے

جادو ٹونا جانتا ہے غائب ہونا جانتا ہے دوست ہے وہ گہرا لیکن دشمن ہونا جانتا ہے تیری آہٹ کو اس گھر کا کونا کونا جانتا ہے رشتوں کی ترپائی کرنا سینا پرونا جانتا ہے بچوں کو وہ ہیرے موتی چاندی سونا جانتا ہے پاپ نہیں ہے جس کے دل میں چین سے سونا جانتا ہے اپنے مطلب کی خاطر وہ سب کچھ ...

مزید پڑھیے

یہاں سے چلیں گے وہاں سے چلیں گے

یہاں سے چلیں گے وہاں سے چلیں گے کہو گے تو سارے جہاں سے چلیں گے کماں سے چلے ہیں نہ جو تیر اب تک وہی تیر تیری زباں سے چلیں گے اچانک ہی جن کو ٹھہرنا پڑا ہے مرے پاؤں کے وہ نشاں سے چلیں گے جنہیں شوق منصب و انعام ہے وہ جھکا کر نظر بے زباں سے چلیں گے مٹا دیں گے ہستی و بستی تمہاری وہ نالے ...

مزید پڑھیے

جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے

جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے وہ خوش مزاج ہے لیکن خفا بھی ہوتا ہے وہ بھول بیٹھے نشہ کر کے اپنی دولت کا نشہ کوئی بھی ہو اک دن ہوا بھی ہوتا ہے کبھی کبھی ہی سہی جیب بھاری ہوتی ہے کبھی کبھی تو یہ بندہ خدا بھی ہوتا ہے میں اس حسین کو یہ بات کیسے سمجھاؤں جو بہترین ہے اس سے سوا بھی ...

مزید پڑھیے

اس نے آتے ہی دیا بجھا دیا

اس نے آتے ہی دیا بجھا دیا حال پھر سارا مجھے سنا دیا مختصر سے اس کے اک تبسم پر جو کچھ بھی تھا پاس وہ لٹا دیا بے صبری سے پڑھ گیا ایک ایک لفظ اور پھر وہ خط وہیں جلا دیا سر اٹھایا جس نے بستی کے لیے اس کے آگے ہم نے سر جھکا دیا سارا دن دریا کنارے ریت پر نام لکھا میرا اور مٹا دیا مسکرا ...

مزید پڑھیے

چاہے تن من سب جل جائے

چاہے تن من سب جل جائے سوز دروں پر آنچ نہ آئے شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے دل ٹوٹے آواز نہ آئے بحر محبت توبہ! توبہ! تیرا جائے نہ ڈوبا جائے اے وائے مجبوریٔ انساں کیا سوچے اور کیا ہو جائے ہائے وہ نغمہ جس کا مغنی گاتا جائے روتا جائے عزت دولت آنی جانی مل مل جائے چھن چھن جائے جس کو کہنی دل ...

مزید پڑھیے

گداز دل سے ملا سوزش جگر سے ملا

گداز دل سے ملا سوزش جگر سے ملا جو قہقہوں میں گنوایا تھا چشم تر سے ملا تعلقات کے اے دل ہزار پہلو ہیں نہ جانے مجھ سے وہ کس نقطۂ نظر سے ملا کبھی تھکن کا کبھی فاصلوں کا رونا ہے سفر کا حوصلہ مجھ کو نہ ہم سفر سے ملا میں دوسروں کے لیے بے قرار پھرتا ہوں عجیب درد مجھے میرے چارہ گر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4009 سے 6203