قومی زبان

بے زباں کلیوں کا دل میلا کیا

بے زباں کلیوں کا دل میلا کیا اے ہوائے صبح تو نے کیا کیا کی عطا ہر گل کو اک رنگیں قبا بوئے گل کو شہر میں رسوا کیا کیا تجھے وہ صبح کاذب یاد ہے روشنی سے تو نے جب پردہ کیا بے خیالی میں ستارے چن لیے جگمگاتی رات کو اندھا کیا جاتے جاتے شام یک دم ہنس پڑی اک ستارہ دیر تک رویا کیا روٹھ کر ...

مزید پڑھیے

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے بس اک آنسو کے دانے پر بسر اوقات کرتا ہے شجر کے تن میں گہرا زخم ہے کوئی وگرنہ یوں زمیں پر سبز پتوں کی کوئی برسات کرتا ہے وہ جب چاہے بجھا دیتا ہے شمعیں بھی ستارے بھی نگر سارا سپرد پنجۂ ظلمات کرتا ہے وہ اپنی بات سے صدچاک کرتا ہے مرا ...

مزید پڑھیے

چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں

چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں جو جزو کارواں تھے وہ کہاں ہیں نہ جانے کون پیچھے رہ گیا ہے مناظر الٹی جانب کو رواں ہیں زمیں کے تال سب سوکھے پڑے ہیں پرندے آسماں در آسماں ہیں سنا ہے تشنگی بھی اک دعا ہے لبوں پر شبد جس کے پر فشاں ہیں کھلے صحرا میں مت ڈھونڈو ہمیں تم سدا سے ہم تمہارے ...

مزید پڑھیے

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال تمہارے قدموں کی آندھی میں ہو گئے پامال ترے بدن کی مہک نے سلا دیا تھا مگر ہوا کا اندھا مسافر چلا انوکھی چال وہ ایک نور کا سیلاب تھا کہ اسی کا سفر وہ ایک نقطۂ موہوم تھا کہ یہ بد حال عجیب رنگ میں وارد ہوئی خزاں اب کے دمکتے ہونٹ سلگتی نظر دہکتے ...

مزید پڑھیے

اب دن کی باتیں کرتے ہیں

لو رات کی بات تمام ہوئی اب دن کی باتیں کرتے ہیں سب خواب تماشے دھول ہوئے اور جگنو تارے دیپ سبھی پرکاش کے پھیلے ساگر میں چمکاٹ دکھانا بھول گئے اک چاند کہ شب بھر ساتھ رہا وہ چاند بھی گر کر ٹوٹ گیا لو رات کی بات تمام ہوئی اب دن کی باتیں کرتے ہیں پھولوں کے سوجے چہروں پر شبنم کی چڑیاں ...

مزید پڑھیے

ذات کے روگ میں

تب وہ بے ساختہ رو پڑے سینہ کوبی کرے جانے والے کا ماتم کرے بین کرتے پھرے آخری پات کے سوگ میں تلملاتی رہے ذات کے روگ میں پھر وہ رت آئے جب چکنی کائی زدہ سی چٹانوں پہ دیکھوں میں خود کو میں آنکھوں کے پانی کو روکوں مگر پانی کیسے رکے تب میں چیخوں بلاؤں اسے گہرے نیلے سمندر کی تہہ میں وہ ...

مزید پڑھیے

کتنی بار بلایا اس کو

کتنی بار بلایا اس کو لیکن اس کے لب لرزے نہ آنکھوں میں پہچان کا کوندا لہرایا بس اک پل خالی نظریں اس نے مجھ پر ڈالیں اور پلکوں کے پیچھے جا کر چپ کے بھاری حجرے میں آرام کیا پر میرے ہونٹوں سے بہتے لفظوں کا اک دھول اڑاتا شور چھتوں پھر چھتناروں تک پھیل گیا پھر اور بھی اوپر تاروں کے ...

مزید پڑھیے

گل نے خوشبو کو تج دیا نہ رہا

گل نے خوشبو کو تج دیا نہ رہا خود سے خود کو کیا جدا نہ رہا رات دیکھے سفر کے خواب بہت پو پھٹی جب تو حوصلہ نہ رہا قافلہ اس کے دم قدم سے تھا چل دیا وہ تو قافلہ نہ رہا ربط اس کا زماں سے کیا رہتا جب زمیں ہی سے سلسلہ نہ رہا ترک کر خامشی کا مسلک سن ہو گیا جو بھی بے صدا نہ رہا عمر بھر اس نے ...

مزید پڑھیے

آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے

آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے خاک پر مہکا ہوا چھوٹا سا گھر میرے لیے لفظ کی چھاگل جو چہکے خاکداں آباد ہو وجد میں آنے لگیں سارے شجر میرے لیے دور تک اڑتے ہوئے جگنو تری آواز کے دور تک ریگ رواں پر اک نگر میرے لیے آشنا نظروں سے دیکھیں رات بھر تارے تجھے گھورتی آنکھوں کی یہ بستی ...

مزید پڑھیے

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا کرمک شب ہوں مرا جلنا بھی کیا بجھنا بھی کیا اک نظر اس چشم تر کا میری جانب دیکھنا آبشار نور کا پھر خاک پر گرنا بھی کیا زخم کا لگنا ہمیں درکار تھا سو اس کے بعد زخم کا رسنا بھی کیا اور زخم کا بھرنا بھی کیا تیرے گھر تک آ چکی ہے دور کے جنگل کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 400 سے 6203