قومی زبان

پی کر چین اگر آیا بھی کتنی دیر کو آئے گا

پی کر چین اگر آیا بھی کتنی دیر کو آئے گا نشہ اک آوارہ پنچھی چہکے گا اڑ جائے گا منظر کی تکمیل نہ ہوگی تنہا مجھ سے فن کارو دکھ کے گیت تو میں گا دوں گا آنسو کون بہائے گا ایک سخی کو اپنا سمجھ کر عرض حال کی ٹھانی ہے بیری دل کہتا ہے پگلے کاسہ بھی چھن جائے گا میرا سمندر پار سفر پر جانا ...

مزید پڑھیے

ستم کی تیغ یہ کہتی ہے سر نہ اونچا کر

ستم کی تیغ یہ کہتی ہے سر نہ اونچا کر پکارتی ہے بلندی کہ زندگی ہے ادھر چمن میں ہم نہ رہیں گے ترے پلٹنے تک ٹھہر ٹھہر ذرا جاتی ہوئی بہار ٹھہر کوئی فریب نہ کھائے سفید پوشی سے نہ جانے کتنے ستارے نگل گئی ہے سحر تو جوہری ہے تو زیبا نہیں تجھے یہ گریز مجھے پرکھ مری شہرت کا انتظار نہ ...

مزید پڑھیے

اے دل خوشی کا ذکر بھی کرنے نہ دے مجھے

اے دل خوشی کا ذکر بھی کرنے نہ دے مجھے غم کی بلندیوں سے اترنے نہ دے مجھے گھر ہی اجڑ گیا ہو تو لطف قیام کیا اے گردش مدام ٹھہرنے نہ دے مجھے مقصد یہ ہے سکوں کسی صورت نہ ہو نصیب اے چارہ ساز بات بھی کرنے نہ دے مجھے چہرے پہ کھال تک بھی نہ چھوڑیں گے بد نگاہ اے میرے خیر خواہ سنورنے نہ دے ...

مزید پڑھیے

آباد رہیں گے ویرانے شاداب رہیں گی زنجیریں

آباد رہیں گے ویرانے شاداب رہیں گی زنجیریں جب تک دیوانے زندہ ہیں پھولیں گی پھلیں گی زنجیریں آزادی کا دروازہ بھی خود ہی کھولیں گی زنجیریں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی جب حد سے بڑھیں گی زنجیریں جب سب کے لب سل جائیں گے ہاتھوں سے قلم چھن جائیں گے باطل سے لوہا لینے کا اعلان کریں گی ...

مزید پڑھیے

لہو سے اپنے زمیں لالہ زار دیکھتے تھے

لہو سے اپنے زمیں لالہ زار دیکھتے تھے بہار دیکھنے والے بہار دیکھتے تھے سرور ایک جھلک کا تمام عمر رہا ہوس پرست تھے جو بار بار دیکھتے تھے کبھی کبھی ہمیں دنیا حسین لگتی تھی کبھی کبھی تری آنکھوں میں پیار دیکھتے تھے چلا وہ دور ستم گھر میں چھپ کے بیٹھ گئے جو ہر صلیب کو مردانہ وار ...

مزید پڑھیے

بے سہاروں کا انتظام کرو

بے سہاروں کا انتظام کرو یعنی اک اور قتل عام کرو خیر خواہوں کا مشورہ یہ ہے ٹھوکریں کھاؤ اور سلام کرو دب کے رہنا ہمیں نہیں منظور ظالمو جاؤ اپنا کام کرو خواہشیں جانے کس طرف لے جائیں خواہشوں کو نہ بے لگام کرو میزبانوں میں ہو جہاں ان بن ایسی بستی میں مت قیام کرو آپ چھٹ جائیں گے ...

مزید پڑھیے

باد صبا یہ ظلم خدارا نہ کیجیو

باد صبا یہ ظلم خدارا نہ کیجیو اس بے وفا سے ذکر ہمارا نہ کیجیو غم کی کمی نہیں ہے جہان خراب میں اے دل ترس ترس کے گزارا نہ کیجیو اے صاحب عروج تو بام عروج سے سورج کے ڈوبنے کا نظارا نہ کیجیو ایسا نہ ہو کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اتنا بھی احترام ہمارا نہ کیجیو ساحل اگر نصیب بھی ہو جائے ...

مزید پڑھیے

اس سے پہچان ہو گئی ہوگی

اس سے پہچان ہو گئی ہوگی راہ آسان ہو گئی ہوگی جینے مرنے کا ایک ہی سامان اس کی مسکان ہو گئی ہوگی معاملہ دل کا جب کھلا ہوگا عقل حیران ہو گئی ہوگی لوگ پھرتے ہیں مارے مارے کیوں بند دوکان ہو گئی ہوگی جس نے بتلایا بے لباس اسے آفت جان ہو گئی ہوگی چالیے پھر راہ دیکھ لیتے ہیں راہ سنسان ...

مزید پڑھیے

کئی دنوں سے اسے مجھ سے کوئی کام نہیں

کئی دنوں سے اسے مجھ سے کوئی کام نہیں یہی سبب ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہیں ابھی سفر میں ہوں چلنا مرا مقدر ہے پہنچ گیا ہوں جہاں وہ مرا مقام نہیں فضا کثیف کیے جا رہے ہیں لوگ مگر لگاتا ان پہ یہاں پر کوئی نظام نہیں وہ لوٹنے کا بہانہ بھی ڈھونڈ سکتا ہے خیال ہے مرا لیکن خیال خام ...

مزید پڑھیے

میں نے ارادہ جب بھی کیا ہے اڑان کا

میں نے ارادہ جب بھی کیا ہے اڑان کا اس کو خیال آیا ہے تیر و کمان کا آئے خیال اپنی زمیں کا بھی کچھ انہیں رکھتے ہیں درد دل میں جو سارے جہان کا پھر شہر دوستاں کی طرف گامزن ہوں میں گو جانتا ہوں شہر میں خطرہ ہے جان کا ہم کو زمیں سے خوب تر آیا نہ کچھ نظر چکر لگا کے دیکھ چکے آسمان کا از ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4008 سے 6203