قومی زبان

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے آنا ہوا تو اب وہ سر عام آئیں گے سوچا نہ تھا کہ ابر سیہ پوش سے کبھی کوندے تیرے بدن کے مرے نام آئیں گے اس نخل نا مراد سے جو پات جھڑ گئے اندھی خنک ہواؤں کے اب کام آئیں گے آنسو ستارے اوس کے دانے سفید پھول سب میرے غم گسار سر شام آئیں گے رکھ تو انہیں ...

مزید پڑھیے

کہاں سے تم آئے ہو بھائی

سفیدے کے سنبل کے اور پوپلر کے چھریرے شجر مری جوہ میں آئے تھے جب مری سبز دھرتی کا اک بھی پرندہ انہیں دیکھنے ان کی شاخوں میں آرام کرنے کو تیار ہرگز نہیں تھا کبھی کوئی پھولے پروں والی اک پھول سی فاختہ ان کی شاخوں کی جانب امنڈتی تو بو سے پریشان ہو کر فلک کی طرف تیر بن کر کچھ اس طور ...

مزید پڑھیے

نماز لڑکی محبت خدا ضروری ہے

نماز لڑکی محبت خدا ضروری ہے کسی بھی چیز کا نشہ بڑا ضروری ہے بہت ضروری ہے اس کا ہر ایک پل ہنسنا مجھ ایسے حبس زدہ کو ہوا ضروری ہے تمہارے واسطے رکھا ہے ٹال کر خود کو اب اس کے بعد تمہیں اور کیا ضروری ہے اب اس کی اور مری چاہ میں تضاد ہے دوست مجھے چراغ اسے آئنہ ضروری ہے جدائی اتنی ...

مزید پڑھیے

دعا

بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں بدن کے پسینے سے قرنوں کے اوراق مہکیں صبا تیرے رستے سے کنکر ہٹائے فلک پر گرجتا ہوا گرم بادل ترے تن کی قوس قزح کا لرزتا دمکتا ہوا کوئی منظر دکھائے تجھے ہر قدم پر ملیں منزلیں ہوا کے ایک باریک سے تیز چابک کی صورت تری بند مٹھی میں دبکی رہے سدا ...

مزید پڑھیے

تھکن

گھٹنوں پہ رکھ کر ہاتھ اٹھی تھکی آواز میں بولی بہت لمبا سفر ہے عمر کے منہ زور دریا کا اکھڑتے پتھروں چکنی پھسلتی ساعتوں کا یہ سفر مشکل بہت ہے تھکن بوجھل منوں بوجھل بدن اپنا اٹھا کر چل پڑی چلتی رہی پھر ایک دن بھاری پپوٹوں کو اٹھا کر اس نے دیکھا راستے کے بیچ ایک برگد پرانا سمادھی ...

مزید پڑھیے

سفر کا دوسرا مرحلہ

چلی کب ہوا کب مٹا نقش پا کب گری ریت کی وہ ردا جس میں چھپتے ہوئے تو نے مجھ سے کہا آگے بڑھ آگے بڑھتا ہی جا مڑ کے تکنے کا اب فائدہ کوئی چہرہ کوئی چاپ ماضی کی کوئی صدا کچھ نہیں اب اے گلے کے تنہا محافظ ترا اب محافظ خدا میرے ہونٹوں پہ کف میرے رعشہ زدہ بازوؤں سے لٹکتی ہوئی گوشت کی ...

مزید پڑھیے

تم جو آتے ہو

تم جو آتے ہو تو کچھ بھی نہیں رہتا موجود تم چلے جاتے ہو اور بولنے لگتے ہیں تمام ادھ کھلے پھول سماعت پہ جمی چاپ ہوا بند مکان گفتگو کرنے کے آسن میں رکے سب اجسام مردہ لمحات کا اک ڈھیر پہاڑ ابر کی قاش اٹھی موج کا ساکت اندام برف لب پلکوں پہ ٹانکے ہوئے موتی آنسو اور سلے کانوں میں آواز کی ...

مزید پڑھیے

اجنبی

اون اتری بھیڑ کے مانند پیڑ منہ چڑھاتی دل دکھاتی چوٹیاں دور نیچے پتھروں کی سیج پر سر پٹختی چیختی ندی رواں آسماں پر مردہ بادل خیمہ زن قہقہوں سے رعد کے نا آشنا مہر جیسے کوئی مجبور ازل ایک میلے جال میں الجھا ہوا ملگجی سی روشنی میں ایک پیڑ کانپتی انگلی سے مجھ پر خندہ زن آسماں پر ...

مزید پڑھیے

المیہ

کہاں اب کہاں وہ ہوا جو سنہری سی الھڑ سی پگڈنڈیوں پر مرے پیچھے پیچھے چلی میں نے جس سے کہا یوں نہ آ دیکھ لے گا کوئی وہ ہنسی زہر میں ڈوبے ہونٹوں نے مجھ سے کہا تو یوں ہی ڈر گیا میں ہوا دور پربت پہ میرا نگر اونچے آکاش پر میرا گھر زرد پگڈنڈیوں سے مجھے واسطے اور میں بڑھتا گیا اونچا اٹھتا ...

مزید پڑھیے

لازم کہاں کہ سارا جہاں خوش لباس ہو

لازم کہاں کہ سارا جہاں خوش لباس ہو میلا بدن پہن کے نہ اتنا اداس ہو اتنا نہ پاس آ کہ تجھے ڈھونڈتے پھریں اتنا نہ دور جا کے ہمہ وقت پاس ہو اک جوئے بے قرار ہو کیوں دلکشی تری کیوں اتنی تشنہ لب مری آنکھوں کی پیاس ہو پہنا دے چاندنی کو قبا اپنے جسم کی اس کا بدن بھی تیری طرح بے لباس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 399 سے 6203