قومی زبان

نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا

نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا نہ ہو یا رب کوئی مائل کسی کا لگا اک ہاتھ بھی کیا دیکھتا ہے کہیں کرتے ہیں ڈر قاتل کسی کا ادا سے اس نے دو باتیں بنا کر کسی کی جان لے لی دل کسی کا اٹھا جب درد پہلو دل پکارا نہیں کوئی دم مشکل کسی کا ابھی جینا پڑا کچھ دن ہمیں اور ٹلا پھر وعدۂ باطل کسی کا بہت ...

مزید پڑھیے

گو یہ رکھتی نہیں انسان کی حالت اچھی

گو یہ رکھتی نہیں انسان کی حالت اچھی پھر بھی سو کام سے دنیا کے محبت اچھی کیا وہ اچھا ہے اگر صرف ہے صورت اچھی صورت اچھی جو خدا دے تو ہو سیرت اچھی وصل میں یہ جو ہوں بے باک تو نکلے مطلب ایسے موقع پہ حسینوں کی شرارت اچھی جس میں شوخی نہ شرارت نہ کرشمہ نہ ادا ایسے معشوق سے مٹی کی ہے ...

مزید پڑھیے

خراب و خستہ ہوئے خاک میں شباب ملا

خراب و خستہ ہوئے خاک میں شباب ملا ہمیں یہ دل نہ ملا جان کا عذاب ملا کسی کی یاد میں بے شبہ بے قرار ہے تو کہ آج ہے تری شوخی میں اضطراب ملا شراب پی تو گنہ گار میں ہوا واعظ برائی کی جو مری تجھ کو کیا ثواب ملا ملے وہ عیش گزشتہ بھی اے خدا مجھ کو بہشت میں جو دوبارہ مجھے شباب ملا بڑی ...

مزید پڑھیے

اب تو نہیں آسرا کسی کا

اب تو نہیں آسرا کسی کا اللہ ہے اپنی بیکسی کا او آنکھ بدل کے جانے والے کچھ دھیان کسی کی عاجزی کا بیمار کو دیجئے تسلی یہ وقت نہیں جلی کٹی کا آپس میں ہوئی جو بد گمانی مشکل ہے نباہ دوستی کا بالیں سے کوئی اٹھا یہ کہہ کر انجام بخیر ہو کسی کا غم کا بھی قیام کچھ نہ ٹھہرا رونا کیا ...

مزید پڑھیے

سن کے میرے عشق کی روداد کو

سن کے میرے عشق کی روداد کو لوگ بھولے قیس کو فرہاد کو اے نگاہ یاس ہو تیرا برا تو نے تڑپا ہی دیا جلاد کو بعد میرے اٹھ گئی قدر ستم اب ترستے ہیں حسیں بیداد کو اک ذرا جھوٹی تسلی ہی سہی کچھ تو سمجھا دو دل ناشاد کو ہائے یہ درد جگر کس سے کہوں کون سنتا ہے مری فریاد کو جائیں گے دنیا سے سب ...

مزید پڑھیے

لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ

لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ یار ہو جائے گلے کا تعویذ کب مسخر یہ حسیں ہوتے ہیں سب یہ بیکار ہے گنڈا تعویذ نہ ہوا یار کا غصہ ٹھنڈا بارہا دھو کے پلایا تعویذ سر سے گیسو کی بلا جاتی ہے لائے تو رد بلا کا تعویذ مر کے بھی دل کی تڑپ اتنی ہے شق ہوا میری لحد کا تعویذ ہر طرح ہوتی ہے مایوسی ...

مزید پڑھیے

اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہے

اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہے ہم ادھر مجبور ہیں اور وہ ادھر مجبور ہے شب کو چھپ کر آئیے آنا اگر منظور ہے آپ کے گھر سے ہمارا گھر ہی کتنی دور ہے لاکھ منت کی مگر اک بات بھی منہ سے نہ کی آپ کی تصویر بھی کتنی بڑی مغرور ہے اس اندھیری رات میں اے شیخ پہچانے گا کون بند ہے مسجد کا در ...

مزید پڑھیے

جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اب

جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اب اجل لگا دے کہیں گور کے کنارے اب گیا جو ہاتھ سے وہ وقت پھر نہیں آتا کہاں امید کہ پھر دن پھریں ہمارے اب عجب نہیں ہے کہ پھر آج ہم سحر دیکھیں کہ آسمان پہ گنتی کے ہیں ستارے اب جب اس کے ہاتھ میں دل ہے مری بلا جانے ملے وہ پاؤں سے یا اپنے سر سے وارے ...

مزید پڑھیے

حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی

حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی زمانہ فصل گل کا اور آغاز شباب اپنا ابھی سے تو نے توبہ کی بھی اے زاہد کہی اچھی جفا دوست اس کو کہتا ہے کوئی کوئی وفا دشمن ہمارے ساتھ تو اس نے نباہی دوستی اچھی تری خاطر سے زاہد ہم نے توبہ آج کی ورنہ گھڑی ...

مزید پڑھیے

شب وصال لگایا جو ان کو سینے سے

شب وصال لگایا جو ان کو سینے سے تو ہنس کے بولے الگ بیٹھیے قرینے سے ثواب ہو کہ نہ ہو اس سے کیا غرض زاہد مزہ ملا مجھے تجھ کو پلا کے پینے سے شب فراق یہ احسان ہے تصور کا کہ سو رہا ہوں لگا کر کسی کو سینے سے فلک مٹائے گا مجھ کو جو تم مکدر ہو عداوت اس کی بڑھے گی تمہارے کینے سے غم فراق میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3996 سے 6203