قومی زبان

چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو

چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو میں ذرا دیکھوں وہ اگلے موڑ پر ٹھہرا نہ ہو میں بھی اک پتھر لیے تھا بزدلوں کی بھیڑ میں اور اب یہ ڈر ہے اس نے مجھ کو پہچانا نہ ہو ہم کسی بہروپئے کو جان لیں مشکل نہیں اس کو کیا پہچانیے جس کا کوئی چہرا نہ ہو اس کو الفاظ و معانی کا تصادم کھا ...

مزید پڑھیے

بے سود ایک سلسلۂ امتحاں نہ کھول

بے سود ایک سلسلۂ امتحاں نہ کھول سب دیکھ دیکھتا ہی چلا جا زباں نہ کھول اندر کا ہی نہ ہو ذرا باہر بھی دیکھ لے دل خون ہے تو آنکھ پہ خونیں سماں نہ کھول اک گرد چھائے گی ترے مومی دماغ پر تھمنے دے آندھیوں کو ابھی کھڑکیاں نہ کھول چھپ جائے گا کہاں ترے حصے کا آفتاب اے سایہ گرد سر پہ کوئی ...

مزید پڑھیے

بیاباں زاد کوئی کیا کہے خود بے مکاں ہے

بیاباں زاد کوئی کیا کہے خود بے مکاں ہے سمندر اے سمندر تیرا اپنا گھر کہاں ہے وفا کا عہد کیا باندھوں ابھی اے دست خوشبو ابھی بادل حنا پا ہے ابھی سورج جواں ہے عجب افسوں صفت سارا نہ چھپ کر ہے نہ ظاہر جزیرہ ایسا سویا ہے وہ دریا سا رواں ہے ہوا ہے منحرف خود اپنی ہی تحریر سے کیوں حقیقت ...

مزید پڑھیے

کچھ سمجھ آیا نہ آیا میں نے سوچا ہے اسے

کچھ سمجھ آیا نہ آیا میں نے سوچا ہے اسے ذہن پر اس کو اتارا دل پہ لکھا ہے اسے ان دنوں اس شہر میں اک فصل خوں کا رقص ہے ہم بہت بے بس ہوئے ہیں، میں نے لکھا ہے اسے دھوپ نے ہنس کر کہا دیکھا تجھے پگھلا دیا برف کیا کہتی نفاست نے ڈبویا ہے اسے باغ میں ہونا ہی شاید سیب کی پہچان تھی اب کہ وہ ...

مزید پڑھیے

وہ جو اب تک لمس ہے اس لمس کا پیکر بنے

وہ جو اب تک لمس ہے اس لمس کا پیکر بنے میری خواہش بھی عجب ہے آئنہ پتھر بنے اک حصار رنگ میں بس سوچتا رہتا ہوں میں کس طرح آندھی ہوا کی زد پہ کوئی گھر بنے راستے پاؤں بنیں تو کیسے طے ہوں راستے نیند کیسے آئے گی جب جسم ہی بستر بنے خوں بہا کس سے طلب ہو کس کو قاتل مانیے آپ اپنی سوچ ہی جب ...

مزید پڑھیے

ہر چوٹ پر زمانے کی ہم مسکرائے ہیں

ہر چوٹ پر زمانے کی ہم مسکرائے ہیں لیکن ترے خیال میں آنسو بہائے ہیں حد کو پہنچ گئی ہے مری نا مردیاں منزل کے پاس آ کے قدم ڈگمگائے ہیں اے زلف کائنات تجھے کیا خبر کہ ہم کن پیچ و خم سے چھٹ کے ترے پاس آئے ہیں اے جان کائنات ترے انتظار میں ہم نے کئی چراغ جلائے بجھائے ہیں جو چل پڑے تھے ...

مزید پڑھیے

طرب سے ہو آیا ہوں اور یاس کی تہہ تک ڈوب چکا ہوں

طرب سے ہو آیا ہوں اور یاس کی تہہ تک ڈوب چکا ہوں دور ہوں اپنی کھوج سے اب تک کب سے خود کو ڈھونڈ رہا ہوں میں ہوں یہ گھٹتا پھیلتا سایہ میں یہ کیسے ہو سکتا ہوں وقت کے سیال آئینے میں کون ہے کس کو دیکھ رہا ہوں دل کے کسی پنہاں گوشے میں انجانی کوئی ہار چھپی ہے جان تپاک ہیں تیری باتیں میں بے ...

مزید پڑھیے

سوال دل کا شام غم کو اور اداس کر گیا

سوال دل کا شام غم کو اور اداس کر گیا ترے وجود میں جو ایک میں تھا وہ کدھر گیا طلسم شوق فکر زندہ اور کرب آگہی تمام عمر کا سفر نگاہ سے گزر گیا چلے تو حوصلہ جواں تھا موج گل تھی آرزو جدھر بھی آنکھ اٹھ گئی سماں نکھر نکھر گیا کبھی اندھیری شب میں اک مہیب دشت سامنے کبھی مہ تمام ساتھ ساتھ ...

مزید پڑھیے

اب مرا درد نہ تیرا جادو

اب مرا درد نہ تیرا جادو مرگ انبوہ میں کیا میں کیا تو کوئی آواز نہ کوئی لرزش از افق تا بہ افق عالم ہو حلقہ دود بپا موج صبا بجھ گئی سینۂ گل میں خوشبو برگ نو رستہ ہیں دست مجذوم زہر شاخوں میں بنی موج نمو راکھ کا ڈھیر ہیں وہ لوگ جو تھے گل بدن غنچہ دہن غالیہ مو وقت کا مے کدہ تصویر ...

مزید پڑھیے

صبح چلے تو ذوق طلب تھا عرش نشاں خورشید شکار

صبح چلے تو ذوق طلب تھا عرش نشاں خورشید شکار منزل شام آئی تو ہم ہیں اور شکستوں کے انبار دل کی نادانی تو دیکھو کیا کیا ارماں رکھتا ہے جیسے دوام کا آئینہ ہو لمحوں کی گرتی دیوار زیست سہی اک تیرہ شبستاں لیکن یارو شعلۂ شوق اک دو نفس تو ایسا بھڑکا طور مثال تھا دل کا دیار کل تک میں اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3991 سے 6203