چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو
چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو میں ذرا دیکھوں وہ اگلے موڑ پر ٹھہرا نہ ہو میں بھی اک پتھر لیے تھا بزدلوں کی بھیڑ میں اور اب یہ ڈر ہے اس نے مجھ کو پہچانا نہ ہو ہم کسی بہروپئے کو جان لیں مشکل نہیں اس کو کیا پہچانیے جس کا کوئی چہرا نہ ہو اس کو الفاظ و معانی کا تصادم کھا ...