قومی زبان

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہوگی نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے پتھرو آج مرے سر پہ برستے کیوں ہو میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے اب مری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے تو نے کیا مجھ کو محبت میں بنا ...

مزید پڑھیے

ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو

ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو گر کے دامن پہ بنے تھے جو ستارے آنسو لعل و گوہر کے خزانے ہیں یہ سارے آنسو کوئی آنکھوں سے چرا لے نہ تمہارے آنسو ان کی آنکھوں میں جو آئیں تو ستارے آنسو میری آنکھوں میں اگر ہوں تو بچارے آنسو دامن صبر بھی ہاتھوں سے مرے چھوٹ گیا اب تو آ پہنچے ہیں پلکوں ...

مزید پڑھیے

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئے

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئے اس میری تباہی میں ترا نام نہ آئے یہ درد ہے ہمدم اسی ظالم کی نشانی دے مجھ کو دوا ایسی کہ آرام نہ آئے کاندھے پہ اٹھائے ہیں ستم راہ وفا کے شکوہ مجھے تم سے ہے کہ دو گام نہ آئے لگتا ہے کہ پھیلے گی شب غم کی سیاہی آنسو مری پلکوں پہ سر شام نہ آئے میں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں نے حال کہہ دیا ہونٹ نہ پھر ہلا سکے

آنکھوں نے حال کہہ دیا ہونٹ نہ پھر ہلا سکے دل میں ہزار زخم تھے جو نہ انہیں دکھا سکے گھر میں جو اک چراغ تھا تم نے اسے بجھا دیا کوئی کبھی چراغ ہم گھر میں نہ پھر جلا سکے شکوہ نہیں ہے عرض ہے ممکن اگر ہو آپ سے دیجے مجھ کو غم ضرور دل جو مرا اٹھا سکے وقت قریب آ گیا حال عجیب ہو گیا ایسے میں ...

مزید پڑھیے

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی میری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی دل کی حسرت دل ناکام سے آگے نہ بڑھی زندگی موت کے پیغام سے آگے نہ بڑھی وہ گئے گھر کے چراغوں کو بجھا کر میرے پھر ملاقات مری شام سے آگے نہ بڑھی رہ گئی گھٹ کے تمنا یوں ہی دل میں اے دوست گفتگو اپنی ترے نام سے آگے نہ ...

مزید پڑھیے

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھی

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھی اس قدر الجھن میں پہلے زندگی دیکھی نہ تھی یہ تماشا بھی عجب ہے ان کے اٹھ جانے کے بعد میں نے دن میں اس سے پہلے تیرگی دیکھی نہ تھی آپ کیا آئے کہ رخصت سب اندھیرے ہو گئے اس قدر گھر میں کبھی بھی روشنی دیکھی نہ تھی آپ سے آنکھیں ملی تھیں پھر نہ جانے ...

مزید پڑھیے

اس راہ محبت میں تو آزار ملے ہیں

اس راہ محبت میں تو آزار ملے ہیں پھولوں کی تمنا تھی مگر خار ملے ہیں انمول جو انساں تھا وہ کوڑی میں بکا ہے دنیا کے کئی ایسے بھی بازار ملے ہیں جس نے بھی مجھے دیکھا ہے پتھر سے نوازا وہ کون ہیں پھولوں کے جنہیں ہار ملے ہیں مالک یہ دیا آج ہواؤں سے بچانا موسم ہے عجب آندھی کے آثار ملے ...

مزید پڑھیے

کبھی وہ ہاتھ نہ آیا ہواؤں جیسا ہے

کبھی وہ ہاتھ نہ آیا ہواؤں جیسا ہے وہ ایک شخص جو سچ مچ خداؤں جیسا ہے ہماری شمع تمنا بھی جل کے خاک ہوئی ہمارے شعلوں کا عالم چتاؤں جیسا ہے وہ بس گیا ہے جو آ کر ہماری سانسوں میں جبھی تو لہجہ ہمارا دعاؤں جیسا ہے تمہارے بعد اجالے بھی ہو گئے رخصت ہمارے شہر کا منظر بھی گاؤں جیسا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

جب بھی جلے گی شمع تو پروانہ آئے گا

جب بھی جلے گی شمع تو پروانہ آئے گا دیوانہ لے کے جان کا نذرانہ آئے گا تجھ کو بھلا کے لوں گا میں خود سے بھی انتقام جب میرے ہاتھ میں کوئی پیمانہ آئے گا آسان کس قدر ہے سمجھ لو مرا پتہ بستی کے بعد پہلا جو ویرانہ آئے گا اس کی گلی میں سر کی بھی لازم ہے احتیاط پتھر اٹھا کے ہاتھ میں ...

مزید پڑھیے

میرے سامنے میرے گھر کا پورا نقشہ بکھرا ہے

میرے سامنے میرے گھر کا پورا نقشہ بکھرا ہے کاش کوئی ایسا ہوتا جو دیکھے کیا کیا بکھرا ہے میں نے چاہا بیتے برسوں کو بھی مٹھی میں بھر لوں اس کوشش میں میرے آج کا لمحہ لمحہ بکھرا ہے پہلے اس کے سائے کے رسیا لوگ تھے اب یہ کہتے ہیں یہ بھی کوئی پیڑ ہے جس کا پتا پتا بکھرا ہے شاید ایسے ہی بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3990 سے 6203