قومی زبان

فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی

فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی کلیجہ تھام کر وحشت چلی تھی کبھی اس کی جوانی منچلی تھی کبھی دنیا بھی سانچے میں ڈھلی تھی یہی آئینہ در آئینہ الفت کبھی عکس‌ خفی نقش جلی تھی نہ چھوڑا سرد جھونکوں نے وفا کو جو شاخ درد کی تنہا کلی تھی بگاڑا کس نے ہے طبع جہال کو کبھی یہ رند مشرب بھی ولی ...

مزید پڑھیے

کیا نظر کی ہشیاری خود اسیر مستی ہے

کیا نظر کی ہشیاری خود اسیر مستی ہے جو نگاہ اٹھتی ہے محو خود پرستی ہے بادلوں کو تکتا ہوں جانے کتنی مدت سے ایک بوند پانی کو یہ زباں ترستی ہے اک جنم کے پیاسے بھی سیر ہوں تو ہم جانیں یوں تو رحمت یزداں چار سو برستی ہے رات غم کی آئی ہے ہوشیار دل والو دیکھنا ہے یہ ناگن آج کس کو ڈستی ...

مزید پڑھیے

وہ مد پیالے لنڈھاتے ہی رہے بس

وہ مد پیالے لنڈھاتے ہی رہے بس ہمیں بے خود بناتے ہی رہے بس اجالوں سے اندھیرا چھٹ نہ پایا اجالے جگمگاتے ہی رہے بس نہ ساتھ اب تک کسی کا دے سکے آہ یہ رہبر رہ دکھاتے ہی رہے بس کسی تیرہ مقدر کے نہ کام آئے ستارے جھلملاتے ہی رہے بس نہ کر پائے طیور شوق پرواز پروں کو پھڑپھڑاتے ہی رہے ...

مزید پڑھیے

جلوہ گر سوچوں میں ہیں کچھ آگہی کے آفتاب

جلوہ گر سوچوں میں ہیں کچھ آگہی کے آفتاب روشنی سے لکھ رہا ہوں زندگانی کا نصاب پتھروں سے کب تلک باندھے گی امید وفا زندگی دیکھے گی کب تک جاگتی آنکھوں سے خواب کیا خبر وہ کون ہیں روز جزا کے منتظر چشم بینا کے لیے ہر روز ہے روز حساب خاک زندہ گر کرے حسن ازل کی آرزو درمیاں رہتا نہیں پھر ...

مزید پڑھیے

انہیں دیکھتے ہی فدا ہو گئے ہم

انہیں دیکھتے ہی فدا ہو گئے ہم محبت میں یوں مبتلا ہو گئے ہم مرے لب پہ آئی تمنا تو بولے ہٹو چھوڑ جاؤ خفا ہو گئے ہم زمانے سے چھپ کر ملے تھے کسی سے زمانے نے دیکھا جدا ہو گئے ہم کبھی تو نے سوچا کبھی تو نے سمجھا ترے ہجر میں کیا سے کیا ہو گئے ہم رہ عشق میں تھک گئے چلتے چلتے تو راہی سے ...

مزید پڑھیے

تم کبھی مائل کرم نہ ہوئے

تم کبھی مائل کرم نہ ہوئے میری قسمت کے دور غم نہ ہوئے اشک ریزی سے ہم ہوئے بے دم تیرے دامن کے تار نم نہ ہوئے ہم نے طور وفا نہیں بدلا تیرے ظلم و ستم بھی کم نہ ہوئے تھک گئے راہ کی صعوبت سے میرے ساتھی مرے قدم نہ ہوئے راستے میں جو تھک کے بیٹھ گئے زندگی بھر وہ تازہ دم نہ ہوئے ملتفت وہ ...

مزید پڑھیے

کشاں کشاں لئے جاتا ہے کوئے یار مجھے

کشاں کشاں لئے جاتا ہے کوئے یار مجھے میں کیا کروں نہیں دل پر جو اختیار مجھے کسی کی مدھ بھری آنکھوں سے کیا ملی آنکھیں سمجھ رہے ہیں مرے دوست بادہ خوار مجھے مجھے خبر ہے کہ اب تجھ کو پا نہیں سکتا تو یاد کیوں تری آتی ہے بار بار مجھے ترے خیال میں خود کو بھلا دیا اتنا نہ مل سکے گی کبھی ...

مزید پڑھیے

ان کے آنے پہ دل فدا ہوگا

ان کے آنے پہ دل فدا ہوگا ان کے جانے پہ جانے کیا ہوگا ایک منزل ہے گو مری ان کی رستہ لیکن جدا جدا ہوگا ان کے لب پر کبھی تو بھولے سے نام میرا بھی آ گیا ہوگا توبہ کر لی بھری جوانی میں کوئی مجھ سا بھی پارسا ہوگا میری کشتی کو ناخدا کا نہیں تند موجوں کا آسرا ہوگا بھول جانے کی ٹھان لی ...

مزید پڑھیے

خوشی گر ہے تو کیا ماتم نہیں ہے

خوشی گر ہے تو کیا ماتم نہیں ہے شگفتہ گل پہ کیا شبنم نہیں ہے کیا ہے یاد اس نے آج شاید مزاج زندگی برہم نہیں ہے کسے اپنا کہیں دنیا میں یا رب کوئی مونس کوئی ہمدم نہیں ہے ترے جلووں کی جرأت کیسے ہوگی مری آنکھوں میں اتنا دم نہیں ہے نظر ان کی پڑی ہے جب سے مجھ پر مری قسمت میں کوئی غم ...

مزید پڑھیے

منہ زور ہیں مغرور ہیں پر کار نہیں ہیں

منہ زور ہیں مغرور ہیں پر کار نہیں ہیں ہم لوگ ابھی صاحب کردار نہیں ہیں جب آپ ہی الفت میں وفادار نہیں ہیں پھر ہم سے گلا کیوں کہ طلب گار نہیں ہیں ہم ساقئ مہ وش ہیں گنہ گار عقیدت ہم پینے پلانے کے گنہ گار نہیں ہیں بے مہری و بیگانگی و جور و تغافل ہم ایسی محبت کے پرستار نہیں ہیں کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3964 سے 6203