فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی
فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی کلیجہ تھام کر وحشت چلی تھی کبھی اس کی جوانی منچلی تھی کبھی دنیا بھی سانچے میں ڈھلی تھی یہی آئینہ در آئینہ الفت کبھی عکس خفی نقش جلی تھی نہ چھوڑا سرد جھونکوں نے وفا کو جو شاخ درد کی تنہا کلی تھی بگاڑا کس نے ہے طبع جہال کو کبھی یہ رند مشرب بھی ولی ...