وہ جن کی لو سے ہزاروں چراغ جلتے تھے (ردیف .. ا)
وہ جن کی لو سے ہزاروں چراغ جلتے تھے چراغ باد فنا نے بجھائے ہیں کیا کیا نہ تاب دید نہ بے دیکھے چین ہی آئے ہمارے حال پہ وہ مسکرائے ہیں کیا کیا رضا و صبر و قناعت تواضع و تسلیم فلک نے ہم کو خصائل سکھائے ہیں کیا کیا لرز گیا ہے جہاں دست کاتب تقدیر ہماری زیست میں لمحات آئے ہیں کیا ...