قومی زبان

کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے

کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے ترے تصور میں ہم نے کر لی کتاب آگے وہ بعد مدت ملا تو رونے کی آرزو میں نکل کے آنکھوں سے گر پڑے چند خواب آگے دل و نظر میں ہی اپنے خیمے لگا لئے ہیں ہمیں خبر ہے کہ راستہ ہے خراب آگے نظر کے حیرت کدے میں کب کا کھڑا ہوا ہوں اک آئنے میں کھلا ہوا ہے گلاب ...

مزید پڑھیے

جب اس کا نام لبوں پر دعا کے ساتھ اترے

جب اس کا نام لبوں پر دعا کے ساتھ اترے تو چاند آنکھ میں کوئی گھٹا کے ساتھ اترے تمہاری یاد اترتی ہے اس طرح دل میں کہ جیسے صحن میں بارش ہوا کے ساتھ اترے کبوتروں کی طرح اڑتے ہیں ترے غم بھی کہ دل کی چھت پہ تو پہلی صدا کے ساتھ اترے فراز کوہ سے آتا ہے جس طرح پانی کبھی وہ آنکھ سے ایسی ادا ...

مزید پڑھیے

گھر سے میرا رشتہ بھی کتنا رہا

گھر سے میرا رشتہ بھی کتنا رہا عمر بھر اک کونے میں بیٹھا رہا اپنے ہونٹوں پر زباں کو پھیر کر آنسوؤں کے ذائقے چکھتا رہا وہ بھی مجھ کو دیکھ کر جیتا تھا اور میں بھی اس کی آنکھ میں زندہ رہا نسبتیں تھیں ریت سے کچھ اس قدر بادلوں کے شہر میں پیاسا رہا شہر میں سیلاب کا تھا شور کل اور میں ...

مزید پڑھیے

نہ میں اس کا نہ وہ میرا ہوا ہے

نہ میں اس کا نہ وہ میرا ہوا ہے چلو جو بھی ہوا اچھا ہوا ہے گرا دوں اپنے پتے کس طرح میں وہ میری چھاؤں میں بیٹھا ہوا ہے چلو پڑھتے ہیں اس پتھر کو چل کر سنا ہے اس پہ سچ لکھا ہوا ہے گھنا ویران اور خاموش جنگل مرے اطراف میں پھیلا ہوا ہے ادھر اس پار جانا چاہتا ہوں مگر دریا کا پل ٹوٹا ہوا ...

مزید پڑھیے

خواب اپنے مری آنکھوں کے حوالے کر کے

خواب اپنے مری آنکھوں کے حوالے کر کے تو کہاں ہے مجھے نیندوں کے حوالے کر کے میرا آنگن تو بجز تیرے مہکتا ہی نہیں! بارہا دیکھا ہے پھولوں کے حوالے کر کے ایک گمنام جزیرے میں اتر جاؤں گا اپنی کشتی کبھی لہروں کے حوالے کر کے کیسا سورج تھا کہ پھر لوٹ کے آیا ہی نہیں چاند تارے مری راتوں کے ...

مزید پڑھیے

رات دن پر شور ساحل جیسا منظر مجھ میں تھا

رات دن پر شور ساحل جیسا منظر مجھ میں تھا تم سے پہلے موجزن کوئی سمندر مجھ میں تھا آج تیری یاد سے ٹکرا کے ٹکڑے ہو گیا وہ جو صدیوں سے لڑھکتا ایک پتھر مجھ میں تھا جیتے جی صحن مزار دوست تھا میرا وجود اک شکستہ سا پیالہ اور کبوتر مجھ میں تھا میں کہاں جاتا دکھانے اپنے اندر کا کمال جو ...

مزید پڑھیے

حسیں کتنا زیادہ ہو گیا ہے

حسیں کتنا زیادہ ہو گیا ہے وہ جب سے اور سادہ ہو گیا ہے چلو ہم بھی محبت کر ہی لیں گے اگر اس کا ارادہ ہو گیا ہے بھلا دوں گا اسے اگلے جنم تک مرا اس سے یہ وعدہ ہو گیا ہے گھڑی بھر اس کی آنکھوں میں اتر کر سمندر بھی کشادہ ہو گیا ہے بچھڑنے کا اسے بھی دکھ ہے شاید کہ اب تو وہ بھی آدھا ہو گیا ...

مزید پڑھیے

الجھی ہوئی سوچوں کی گرہیں کھولتے رہنا

الجھی ہوئی سوچوں کی گرہیں کھولتے رہنا اچھا ہے مگر ان میں لہو گھولتے رہنا دن بھر کسی منظر کے تعاقب میں بھٹکنا اور شام کو لفظوں کے نگیں رولتے رہنا میں لمحۂ محفوظ نہیں رک نہ سکوں گا اڑنا ہے مرے سنگ تو پر تولتے رہنا خاموش بھی رہنے سے جنازے نہیں رکتے جینے کے لئے ہم نفسو بولتے ...

مزید پڑھیے

منظر میں اگر کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا

منظر میں اگر کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا کوئی بھی ترے حق میں صفائی نہیں دے گا وہ چاند جو اترا ہے کسی اور کے گھر میں مجھ کو تو اندھیروں سے رہائی نہیں دے گا خود اپنی زبانوں سے لہو چاٹنے والو ظالم تو ستم کر کے دہائی نہیں دے گا سہمی ہے سماعت کہ کوئی لفظ ہی گونجے اک شور کہ پھر کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

ڈائری میں لکھ کے میرے تذکرے رکھ چھوڑنا

ڈائری میں لکھ کے میرے تذکرے رکھ چھوڑنا پھر کبھی ان پر لگا کر حاشیے رکھ چھوڑنا یاد کی البم سجا کر گوشۂ دل میں کہیں کام آئیں گے وفا کے سلسلے رکھ چھوڑنا یہ بھی کیا پہلے دکھا کر منزلوں کے راستے پھر دلوں کے درمیاں کچھ فاصلے رکھ چھوڑنا کیا خبر کب لوٹ آئیں اجنبی دیسوں سے وہ پیڑ پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3938 سے 6203