کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے
کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے ترے تصور میں ہم نے کر لی کتاب آگے وہ بعد مدت ملا تو رونے کی آرزو میں نکل کے آنکھوں سے گر پڑے چند خواب آگے دل و نظر میں ہی اپنے خیمے لگا لئے ہیں ہمیں خبر ہے کہ راستہ ہے خراب آگے نظر کے حیرت کدے میں کب کا کھڑا ہوا ہوں اک آئنے میں کھلا ہوا ہے گلاب ...