نظر ملتے ہی برسے اشک خوں کیوں دیدۂ تر سے
نظر ملتے ہی برسے اشک خوں کیوں دیدۂ تر سے رگیں قلب و جگر کی چھیڑ دیں کیا تم نے نشتر سے یقیناً کچھ تعلق ہے ترے در کو مرے سر سے وگرنہ لوح پیشانی کا کیا رشتہ ہے پتھر سے مرے پہلو میں ہے آباد ارمانوں کی ایک دنیا ہزاروں میتیں اٹھیں گی مرے ساتھ بستر سے وہ اپنی زلف بکھرا کر تصور ہی میں آ ...