قومی زبان

نظر ملتے ہی برسے اشک خوں کیوں دیدۂ تر سے

نظر ملتے ہی برسے اشک خوں کیوں دیدۂ تر سے رگیں قلب و جگر کی چھیڑ دیں کیا تم نے نشتر سے یقیناً کچھ تعلق ہے ترے در کو مرے سر سے وگرنہ لوح پیشانی کا کیا رشتہ ہے پتھر سے مرے پہلو میں ہے آباد ارمانوں کی ایک دنیا ہزاروں میتیں اٹھیں گی مرے ساتھ بستر سے وہ اپنی زلف بکھرا کر تصور ہی میں آ ...

مزید پڑھیے

وہ نگاہ مل کے نگاہ سے بہ ادائے خاص جھجھک گئی

وہ نگاہ مل کے نگاہ سے بہ ادائے خاص جھجھک گئی تو برنگ خوں مری آرزو مری چشم تر سے ٹپک گئی کبھی اشک بن کے ڈھلک گئی کبھی رشک بن کے جھلک گئی وہ شراب جام حیات سے جو شباب بن کے چھلک گئی مری آہ صاعقہ‌‌‌ بار جب مرے طور دل پہ چمک گئی جو زمیں سے تا بہ فلک گئی تو فلک سے تا بہ سمک گئی میں زہے ...

مزید پڑھیے

ان کی چشم مست میں پوشیدہ اک مے خانہ تھا

ان کی چشم مست میں پوشیدہ اک مے خانہ تھا جام تھا ساغر تھا مے تھی شیشہ تھا پیمانہ تھا کیا فقط میرا ہی اک چھلکا ہوا پیمانہ تھا جو بھی ان کی بزم میں تھا ہوش سے بیگانہ تھا اختلاف شکل نے دھوکا نگاہوں کو دیا ورنہ جو کچھ شمع سوزاں تھی وہی پروانہ تھا کس طرح چھپتا مری ٹوٹی ہوئی توبہ کا ...

مزید پڑھیے

کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہوگا

کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہوگا کبھی نام خدا تو بھی تو اے کم سن جواں ہوگا نہیں معلوم ان کی جلوہ گہ میں کیا سماں ہوگا نظر جب کامراں ہوگی تو اے دل تو کہاں ہوگا وہی اک سانس مدہوش حیات جاوداں ہوگا جو آہ سرد بن کر سوز غم کا ترجماں ہوگا لرز جائیں گے یہ مظلومی دل کے تماشائی اگر ...

مزید پڑھیے

وہ جلوہ طور پر جو دکھایا نہ جا سکا

وہ جلوہ طور پر جو دکھایا نہ جا سکا آخر یہی ہوا کہ چھپایا نہ جا سکا آتے ہی ان کے دشت و جبل مسکرا اٹھے ایسے میں اپنا حال سنایا نہ جا سکا گردوں بھی اضطراب عزیزاں سے ہل گیا سوئے کچھ ایسے ہم کہ جگایا نہ جا سکا دامن کے داغ اشک ندامت نے دھو دئیے لیکن یہ دل کا داغ مٹایا نہ جا سکا کتنی ...

مزید پڑھیے

تری الفت میں جتنی میری ذلت بڑھتی جاتی ہے

تری الفت میں جتنی میری ذلت بڑھتی جاتی ہے قسم ہے رب عزت کی کہ عزت بڑھتی جاتی ہے خدایا خیر ہو معمور ہائے ربع مسکیں کی کہ اب دل کھول کر رونے کی عادت بڑھتی جاتی ہے کسی کو یاد کر کے ایک دن خلوت میں رویا تھا نہیں معلوم کیوں جب سے ندامت بڑھتی جاتی ہے کہاں طاقت سنانے کی کسے فرصت ہے سننے ...

مزید پڑھیے

ذرہ حریف مہر درخشاں ہے آج کل

ذرہ حریف مہر درخشاں ہے آج کل قطرے کے دل میں شورش طوفاں ہے آج کل صد جلوہ بے حجاب خراماں ہے آج کل سہما ہوا سا گنبد گرداں ہے آج کل آنسو میں عکس نقشۂ دوراں ہے آج کل سمٹا ہوا سا عالم امکاں ہے آج کل برہم مزاج فطرت انساں ہے آج کل کس مخمصے میں غیرت یزداں ہے آج کل قسمت کی تیرگی کی کہانی ...

مزید پڑھیے

اگر خوئے تحمل ہو تو کوئی غم نہیں ہوتا

اگر خوئے تحمل ہو تو کوئی غم نہیں ہوتا گلے شکوے سے رنج زندگی کچھ کم نہیں ہوتا بجھی جاتی ہیں شمعیں رہ گزار زندگانی کی چراغ آرزو لیکن کبھی مدھم نہیں ہوتا خدا کے سامنے جو سر یقیں کے ساتھ جھک جائے کسی طاقت کے آگے پھر کبھی وہ خم نہیں ہوتا عطا کی ہے خدا نے علم کی دولت اگر تجھ کو سخاوت ...

مزید پڑھیے

خیال دل کو ہے اس گل سے آشنائی کا

خیال دل کو ہے اس گل سے آشنائی کا نہیں صبا کو ہے دعویٰ جہاں رسائی کا کہیں وہ کثرت‌ عشاق سے گھمنڈ میں آ ڈروں ہوں میں کہ نہ دعویٰ کرے خدائی کا مجھے تو ڈھو کے تھا زاہد پر اک نگاہ سے آج غرور کیا ہوا وہ تیری پارسائی کا جہاں میں دل نہ لگانے کا لیوے پھر کوئی نام بیاں کروں میں اگر تیری ...

مزید پڑھیے

وہ جس کی جستجوئے دید میں پتھرا گئیں آنکھیں (ردیف .. ا)

وہ جس کی جستجوئے دید میں پتھرا گئیں آنکھیں نظر کے سامنے اک دن سر محفل بھی آئے گا یہ کیا شکوہ کہ کوئی چاہنے والا نہیں ملتا کرم پر تم جو ہو مائل کوئی سائل بھی آئے گا یہ طوفاں خیز موجیں یہ تھپیڑے باد و باراں کے سفینے کو یوں ہی کہتے رہو ساحل بھی آئے گا نہ ہو مایوس ہمدم پاؤں میں لغزش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 393 سے 6203