قومی زبان

بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والے

بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والے سب گل سے گال والے سنبل سے بال والے سیدھی ادا بھی بھولے گئے داغ ہو چھبیلے اے ٹیڑھی چال والے ٹھوڑی کے خال والے مت ہو تو نیلا پیلا بخت سیہ کر اجلی اے الفی شال والے بھگوے رومال والے کر سرمہ خاک ساری دل کی نین سے دیکھا چل گئے وہ حال والے رہ گئے ہیں ...

مزید پڑھیے

ایک اشارے میں بدل جاتا ہے میخانے کا نام

ایک اشارے میں بدل جاتا ہے میخانے کا نام چشم ساقی تیری گردش سے ہے پیمانے کا نام پہلے تھا موج بہاراں دل کے لہرانے کا نام مسکن برق تپاں ہے اب تو کاشانے کا نام آس جس کی ابتدا تھی یاس جس کی انتہا اے دل ناکام کیا ہو ایسے افسانے کا نام رنگ لا کر ہی رہا آخر محبت کا اثر آج تو ان کی زباں پر ...

مزید پڑھیے

مست نظروں کا التفات نہ پوچھ

مست نظروں کا التفات نہ پوچھ جھوم اٹھی دل کی کائنات نہ پوچھ اپنی نظروں کی کیفیات نہ پوچھ مسکرا دی مری حیات نہ پوچھ عشق میں ہر قدم ہے اک منزل راہ الفت کی مشکلات نہ پوچھ میں ہوں اور آپ کا تصور ہے اب مری رونق حیات نہ پوچھ جیسے ہر لحظہ دیکھتے ہو مجھے مری مشق تصورات نہ پوچھ حرف ...

مزید پڑھیے

رہ کہکشاں سے گزر گیا ہمہ این و آں سے گزر گیا

رہ کہکشاں سے گزر گیا ہمہ این و آں سے گزر گیا کوئی بزم ناز و نیاز میں میں حد و کماں سے گزر گیا نہ کوئی جہاں سے گزر سکے یہ وہاں وہاں سے گزر گیا ترے عشق میں دل مبتلا ہر اک امتحاں سے گزر گیا ترے عشق سینہ فگار کا یہ شعور قابل داد ہے وہی تیر دل سے لگا لیا جو تری کماں سے گزر گیا ترے حسن ...

مزید پڑھیے

چشم یقیں سے دیکھیے جلوہ گہ صفات میں

چشم یقیں سے دیکھیے جلوہ گہ صفات میں حسن ہی حسن ہے تمام عشق کی کائنات میں ایسے بھی وقت آئے ہیں عشق کی واردات میں مستیاں جھوم جھوم اٹھیں دیدۂ کائنات میں تو مری سرگزشت غم سن کے کرے گا کیا ندیم وقف خلش ہے ہر نفس درد ہے بات بات میں جام و شراب و خم سبو ساقیا ہیں برائے نام نشہ تری نظر ...

مزید پڑھیے

ہوئے ہم جب سے پیدا اپنے دیوانے ہوئے ہوتے

ہوئے ہم جب سے پیدا اپنے دیوانے ہوئے ہوتے خدا کو ہم پہنچتے خود سے بیگانے ہوئے ہوتے مزا روشن دلی کا زندگانی ہے تجرد سے ہم اپنے مثل شبنم آب اور دانے ہوئے ہوتے موئے ہم انتظار نشہ سے خوشوں کے جا یا رب ہویدا تاک سے پر بادہ پیمانے ہوئے ہوتے ہوئیں گے خاک وسعت مشربی کی رہ گئی حسرت ہم ...

مزید پڑھیے

ہے اس کی زلف سے نت پنجۂ عدو گستاخ

ہے اس کی زلف سے نت پنجۂ عدو گستاخ مرا غبار وہ دامن سے ہے کبھو گستاخ دھواں نکالوں میں حقے کا خون جام پیوں ترے ہیں لب سے دونوں میرے روبرو گستاخ پلا ہے پانی سے پر سر چڑھا ہے پانی کے ندی کے سات ہے کم ظرفی سے کدو گستاخ ستاوے ہے دل خونیں کو حرف ناصح یوں کہ جیسے زخم سے ہووے ہے گل کی بو ...

مزید پڑھیے

عشق میں خود سری نہیں ہوتی

عشق میں خود سری نہیں ہوتی حسن میں بندگی نہیں ہوتی ناوک افگن بتا تو دے آخر درد میں کیوں کمی نہیں ہوتی راز الفت کہاں چھپائیں ہم دل سے بھی دشمنی نہیں ہوتی وہ محبت بھی کیا محبت ہے جس میں دیوانگی نہیں ہوتی آہ کر کے بھی ہم نے دیکھ لیا سوز غم میں کمی نہیں ہوتی مست آنکھوں ہی سے پلا ...

مزید پڑھیے

غم محبت ہے کار فرما دعا سے پہلے اثر سے پہلے

غم محبت ہے کار فرما دعا سے پہلے اثر سے پہلے بتا رہی ہے یہ دل کی دھڑکن وہ آ رہے ہیں خبر سے پہلے یہ کس کے گیسو سے مانگ لائی نسیم نکہت سحر سے پہلے فضائے گلشن اداس سی تھی شمیم‌ عنبر اثر سے پہلے بجائے خوں مے جھلک رہی ہے ہماری رگ رگ سے اب تو ساقی بہت ہی بے کیف زندگی تھی خمار آگیں نظر سے ...

مزید پڑھیے

تم خفا کیا ہوئے حیات گئی

تم خفا کیا ہوئے حیات گئی جان تسکین کائنات گئی جب سے مرجھا گئی ہے دل کی کلی رونق گلشن حیات گئی ساقیا صرف اپنے اپنوں پر بس تری چشم التفات گئی ہائے بیچارگیٔ فکر و نظر وہ بھی تا حد ممکنات گئی ایک آنسو کی ترجمانی سے عظمت غم کی ساری بات گئی درد دل میں ہوئی ہے جب سے کمی کیا کہیں لذت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 392 سے 6203