قومی زبان

مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہوا

مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہوا کہ دل دہندہ جیو یا مرو ہوا سو ہوا جلا دیا جو پتنگ اب نہ رو ہوا سو ہوا اے شمع صبح کو جو ہو سو ہو ہوا سو ہوا دل اس کوں دے چکا دیوانگی نہ چھوڑوں گا اے طفلو پتھروں سے مارو ہنسو ہوا سو ہوا مجھے رلا کے خوں آنسو نہ پونچھ خوف یہ ہے تو ہاتھ میرے لہو سے نہ ...

مزید پڑھیے

اے ناصح چشم تر سے مت کر آنسو پاک رہنے دے

اے ناصح چشم تر سے مت کر آنسو پاک رہنے دے ارے بے درد رونے میں مجھے بے باک رہنے دے برس مت ابر مٹ جاگا بگھولا خاک مجنوں کا خدا کے واسطے دشت جنوں کی ناک رہنے دے دل زخمی ہے شائق بوئے گل اور شور بلبل کا رفو گر فصل گل میں یہ گریباں چاک رہنے دے یہ طاقت نذر ہے اے ناتوانی پر بہاروں میں مرے ...

مزید پڑھیے

ماہ کامل ہو مقابل یار کے رو سے چے خوش

ماہ کامل ہو مقابل یار کے رو سے چے خوش خم ہو دم مارے ہلال اس تیغ ابرو سے چے خوش اک جھلک بھی یار کی شوخی کی تجھ میں نہیں اے برق تسپہ ہم سر ہو تو اس کی تندئ خو سے چے خوش اس کی جولاں کی ہوا سے گئی ہے برباد اور اس پر مدعی ہے نکہت گل یار کی بو سے چے خوش آنکھ میں ہرنوں کی خاک افگن ہے اس کی ...

مزید پڑھیے

جب تن نہ رہا میرا ہوں واصل جانانہ

جب تن نہ رہا میرا ہوں واصل جانانہ دیوار کے گرنے سے ہم سایا ہو ہم خانہ آئینے میں دیکھ آ کر منہ اپنا اے جانانہ تا قدر مری جانے کاش اپنا ہو دیوانہ اس زلف میں کئی دن سے بیتابیٔ دل گم ہے زنجیر جھنکتی نئیں کیا مر چکا دیوانہ بجلی مرے نالے کی جوں چمکے تو موند آنکھیں اے آشنا آگے تو اتنا ...

مزید پڑھیے

غیر آہ سرد نہیں داغوں کے جانے کا علاج

غیر آہ سرد نہیں داغوں کے جانے کا علاج جز صبا کیا ہے چراغوں کے بجھانے کا علاج دل شکستوں کی دوا غیر از گداز عشق نہیں ہے گلانا ٹوٹے شیشوں کے بنانے کا علاج جور سے نادم ہو لب کا کاٹنا قاتل کا ہے دل کے زخموں کو مرے بخیہ دلانے کا علاج

مزید پڑھیے

آج دل بے قرار ہے میرا

آج دل بے قرار ہے میرا کس کے پہلو میں یار ہے میرا کیوں نہ عشاق پر ہوؤں منصور جوں سپند آہ دار ہے میرا بے قرار اس کا ہوں گا حشر میں بھی یہی اس سے قرار ہے میرا رنگ زرد اور سرشک سرخ تو دیکھ کیا خزاں میں بہار ہے میرا میرے قاتل کے کف حنائی نہیں مشت خوں یادگار ہے میرا کھول کر قبر دیکھ ...

مزید پڑھیے

جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ

جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ نماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخ سوا ہمارے تو زاہد کو مت دکھا آنکھیں بغیر رندوں کے کیا جانے قدر جام کو شیخ جو آوے وقت نماز اس کے سامنے مرا شوخ کروں میں سجدہ اگر پھیرے سر سلام کو شیخ

مزید پڑھیے

جوں گل ازبسکہ جنوں ہے مرا سامان کے سات

جوں گل ازبسکہ جنوں ہے مرا سامان کے سات چاک کرتا ہوں میں سینے کو گریبان کے سات چشم تر ہیں مری صحرا ہے جنوں کی ممنوں ربط ہے رونے کوں میرے اسی دامان کے سات بے خودی کا ہے مزہ شور اسیری سے مجھے رنگ اڑے ہے مرا زنجیر کی افغان کے سات جوں بگولہ ہوں میں منت کش صحرا گردی زندگانی ہے مری سیر ...

مزید پڑھیے

دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھب

دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھب کہ ہو جہاں پہ نہ ظاہر یہ ہے مرا مذہب مجھے غرض نہیں جز یہ کہ یار نالہ سے اثر جلاوے ہے جوں دود شعلہ یارب کہا میں رات پتنگوں کو شمع کے آگے گرو ہو آنکھ میں معشوق کی یہ کیا ہے ادب تو کہنے لاگے اے عزلتؔ مرے سے عشق کے نئیں نظر میں پاس ادب ہم کو جلنا ہے ...

مزید پڑھیے

درد جوں شمع ملے ہے شب ہجراں مجھ کو

درد جوں شمع ملے ہے شب ہجراں مجھ کو کھا گئے رو رو مرے دیدۂ گریاں مجھ کو نو بہار آئی مبارک ہوئے جوں غنچہ و گل خاطر جمع تجھے حال پریشاں مجھ کو گر دم صبح شہیدان چمن سیر کرو تیغ قاتل ہے دم منت احساں مجھ کو جوں بگھولا ہے مجھے خجلت عصیاں دم فخر بال پرواز ہوئے دست پشیماں مجھ کو آفتاب‌ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 391 سے 6203