قومی زبان

آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی

آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھی تمنا کی نہ ہو شعبدہ بازی دل خوب سمجھتا ہے ترے حرف کرم کو ہر چند وہ اردو ہے نہ ترکی ہے نہ تازی قائم ہے نہ وہ حسن رخ یار کا عالم باقی ہے نہ وہ شوق کی ہنگامہ نوازی اے عشق تری ...

مزید پڑھیے

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلو پر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی دشوار ہے رندوں پر انکار کرم یکسر اے ساقئ جاں پرور کچھ لطف و عنایت بھی دل بسکہ ہے دیوانہ اس حسن گلابی کا رنگیں ہے اسی رو سے شاید غم فرقت ...

مزید پڑھیے

درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی

درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی کوششیں ہم نے کیں ہزار مگر عشق میں ایک معتبر نہ ہوئی کر چکے ہم کو بے گناہ شہید آپ کی آنکھ پھر بھی تر نہ ہوئی نارسا آہ عاشقاں وہ کہاں دور ان سے جو بے اثر نہ ہوئی آئی بجھنے کو اپنی شمع حیات شب غم کی مگر سحر نہ ہوئی شب تھے ہم گرم ...

مزید پڑھیے

ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر

ان کو رسوا مجھے خراب نہ کر اے دل اتنا بھی اضطراب نہ کر آمد یار کی امید نہ چھوڑ دیکھ اے آنکھ میل خواب نہ کر مل ہی رہتی ہے مے پرست کو مے فکر نایابئ شراب نہ کر ناصحا ہم کریں گے شرح جنوں دل دیوانہ سے خطاب نہ کر شوق یاروں کا بے شمار نہیں ستم اے دوست بے حساب نہ کر دل کو مست خیال یار ...

مزید پڑھیے

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام دل خون ہو چکا ہے جگر ہو چکا ہے خاک باقی ہوں میں مجھے بھی کر اے تیغ زن تمام دیکھو ...

مزید پڑھیے

چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک

چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ قدر تو کرتے مرے اظہار وفا کی شاید یہ محبت ہی نہیں آپ کے نزدیک یوں غیر سے بے باک اشارے سر محفل کیا یہ مری ذلت ہی نہیں آپ کے نزدیک عشاق پہ کچھ حد بھی مقرر ہے ستم کی یا اس کی نہایت ہی نہیں آپ کے نزدیک اگلی سی ...

مزید پڑھیے

روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں

روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں مجھ کو دکھلا کے راہ کوچۂ یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں محفل یار میں بہ ذوق نگاہ لطف کیا کیا اٹھا گئیں ...

مزید پڑھیے

ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیا

ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیا تو نے اے شوخ مگر کام ہمارا نہ کیا ایک ہی بار ہوئیں وجہ گرفتارئ دل التفات ان کی نگاہوں نے دوبارا نہ کیا محفل یار کی رہ جائے گی آدھی رونق ناز کو اس نے اگر انجمن آرا نہ کیا طعن احباب سنے سرزنش خلق سہی ہم نے کیا کیا تری خاطر سے گوارا نہ کیا جب ...

مزید پڑھیے

محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک

محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک باقی ہے ترے عشق کی تاثیر ابھی تک وصل اس بت بد خو کا میسر نہیں ہوتا وابستۂ تقدیر ہے تدبیر ابھی تک اک بار سنی تھی سو مرے دل میں ہے موجود اے جان تمنا تری تقریر ابھی تک سیکھی تھی جو آغاز محبت میں قلم نے باقی ہے وہ رنگینئ تحریر ابھی تک اس درجہ نہ بیتاب ...

مزید پڑھیے

دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا

دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا ساغر کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیا مانوس ہو چلا تھا تسلی سے حال دل پھر تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا گستاخ دستیوں کا نہ تھا مجھ میں حوصلہ لیکن ہجوم شوق نے مجبور کر دیا کچھ ایسی ہو گئی ہے تیرے غم میں مبتلا گویا کسی نے جان کو مسحور کر دیا بیتابیوں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3917 سے 6203