آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی
آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھی تمنا کی نہ ہو شعبدہ بازی دل خوب سمجھتا ہے ترے حرف کرم کو ہر چند وہ اردو ہے نہ ترکی ہے نہ تازی قائم ہے نہ وہ حسن رخ یار کا عالم باقی ہے نہ وہ شوق کی ہنگامہ نوازی اے عشق تری ...