جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے
جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے عجب نہیں کہ ہمارا بھی کام ہو جائے شراب شوق کی قیمت ہے نقد جان عزیز اگر یہ باعث کیف دوام ہو جائے رہین یاس رہیں اہل آرزو کب تک کبھی تو آپ کا دربار عام ہو جائے جو اور کچھ ہو تری دید کے سوا منظور تو مجھ پہ خواہش جنت حرام ہو جائے وہ دور ہی سے ہمیں دیکھ ...