قومی زبان

جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے

جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے عجب نہیں کہ ہمارا بھی کام ہو جائے شراب شوق کی قیمت ہے نقد جان عزیز اگر یہ باعث کیف دوام ہو جائے رہین یاس رہیں اہل آرزو کب تک کبھی تو آپ کا دربار عام ہو جائے جو اور کچھ ہو تری دید کے سوا منظور تو مجھ پہ خواہش جنت حرام ہو جائے وہ دور ہی سے ہمیں دیکھ ...

مزید پڑھیے

اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کے

اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کے آزمایا جو انہیں ضبط محبت کر کے دل نے چھوڑا ہے نہ چھوڑے ترے ملنے کا خیال بارہا دیکھ لیا ہم نے ملامت کر کے دیکھنے آئے تھے وہ اپنی محبت کا اثر کہنے کو یہ ہے کہ آئے ہیں عیادت کر کے پستئ حوصلۂ شوق کی اب ہے یہ صلاح بیٹھ رہئے غم ہجراں پہ قناعت کر ...

مزید پڑھیے

لطف کی ان سے التجا نہ کریں

لطف کی ان سے التجا نہ کریں ہم نے ایسا کبھی کیا نہ کریں مل رہے گا جو ان سے ملنا ہے لب کو شرمندۂ دعا نہ کریں صبر مشکل ہے آرزو بے کار کیا کریں عاشقی میں کیا نہ کریں مسلک عشق میں ہے فکر حرام دل کو تدبیرآشنا نہ کریں بھول ہی جائیں ہم کو یہ تو نہ ہو لوگ میرے لیے دعا نہ کریں مرضئ یار کے ...

مزید پڑھیے

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم گھبرا گئے ہیں بے دلئ ہم رہاں سے ہم کچھ ایسی دور بھی تو نہیں منزل مراد لیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم اے یاد یار دیکھ کہ باوصف رنج ہجر مسرور ہیں تری خلش ناتواں سے ہم معلوم سب ہے پوچھتے ہو پھر بھی مدعا اب تم سے دل کی بات کہیں کیا زباں سے ...

مزید پڑھیے

حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا

حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا بڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بیتابیاں ہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کر دیا پڑھ کے تیرا خط مرے دل کی عجب حالت ہوئی اضطراب شوق نے اک حشر برپا کر دیا ہم رہے یاں تک تری خدمت میں سرگرم نیاز تجھ کو آخر ...

مزید پڑھیے

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ترے ستم سے میں خوش ہوں کہ غالباً یوں بھی مجھے وہ شامل ارباب امتیاز کرے غم جہاں سے ...

مزید پڑھیے

عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھے

عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھے عشق جب دینے لگا تعلیم نادانی مجھے رنج دے گی باغ رضواں کی تن آسانی مجھے یاد آئے گا ترا لطف ستم رانی مجھے میری جانب ہے مخاطب خاص کر وہ چشم ناز اب تو کرنی ہی پڑے گی دل کی قربانی مجھے دیکھ لے اب کہیں آ کر جو وہ غفلت شعار کس قدر ہو جائے مر جانے ...

مزید پڑھیے

چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی

چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی انتہا تھی یہ دل ربائی کی مائل غمزہ ہے وہ چشم سیاہ اب نہیں خیر پارسائی کی ہم سے کیونکر وہ آستانہ چھٹے مدتوں جس پہ جبہ سائی کی دل نے برسوں بہ جستجوئے کمال کوچۂ عشق میں گدائی کی دام سے ان کے چھوٹنا تو کہاں یاں ہوس بھی نہیں رہائی کی کیا کیا یہ کہ اہل ...

مزید پڑھیے

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں عقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہوا شوق کی بے قراریاں نہ گئیں دن کی صحرا نوردیاں نہ چھٹیں شب کی اختر شماریاں نہ گئیں ہوش یاں سد راہ علم رہا عقل کی ہرزہکاریاں نہ گئیں تھے جو ہمرنگ ناز ان کے ستم دل کی امیدواریاں نہ گئیں حسن جب تک رہا ...

مزید پڑھیے

بت بے‌ درد کا غم مونس ہجراں نکلا

بت بے‌ درد کا غم مونس ہجراں نکلا درد جانا تھا جسے ہم نے وہ درماں نکلا آنکھ جب بند ہوئی تب کھلیں آنکھیں اپنی بزم یاراں جسے سمجھے تھے وہ زنداں نکلا حسرت و یاس کا انبوہ فغاں کی کثرت میں تری بزم سے کیا با سر و ساماں نکلا خون ہو کر تو یہ دل آنکھ سے برسوں ٹپکا نہ کوئی پر دل ناکام کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3916 سے 6203