قومی زبان

صورت ہے وہ ایسی کہ بھلائی نہیں جاتی

صورت ہے وہ ایسی کہ بھلائی نہیں جاتی روداد غم ہجر سنائی نہیں جاتی ہر صبح الم شام ستم کا ہے تسلسل کیا دل پہ گزرتی ہے بتائی نہیں جاتی کہتی ہے دلہن شام کی بالوں کو بکھیرے یوں نیند بھی آنکھوں سے اڑائی نہیں جاتی چاہت پہ کبھی بس نہیں چلتا ہے کسی کا لگ جاتی ہے یہ آگ لگائی نہیں ...

مزید پڑھیے

گئی رتوں کو بھی یاد رکھنا نئی رتوں کے بھی باب پڑھنا

گئی رتوں کو بھی یاد رکھنا نئی رتوں کے بھی باب پڑھنا گلاب چہروں نے جو لکھی ہے تمازتوں کی کتاب پڑھنا تمام رنگوں کی ایک رنگت تمام موسم کی ایک نگہت تمام چہرے حسین لکھنا تمام آنکھیں سراب پڑھنا ہر ایک آنگن خموش پہرے ہر ایک لب پر سکوت طاری ہمارے گھر گھر جو ٹوٹتے ہیں قیامتوں کے عذاب ...

مزید پڑھیے

محبت کا عجب زاویہ ہے

محبت کا عجب زاویہ ہے ہوائیں چار سو اور اک دیا ہے ہم اہل درد خود سے پوچھتے ہیں وطن کو ہم نے اب تک کیا دیا ہے ستم گر کے ستم اتنے بڑھے ہیں لبوں کو آج ہم نے سی لیا ہے اچانک بول اٹھے دیوار و در بھی یہ کس کا نام میں نے لے لیا ہے تمہارے خواب آخر کیا ہوئے ہیں حقیقت آشنا کس نے کیا ...

مزید پڑھیے

میں اپنے آپ سے غافل نہ یوں ہوا ہوتا

میں اپنے آپ سے غافل نہ یوں ہوا ہوتا مرے بھی پاس اگر کوئی آئنا ہوتا ذرا تو سوچ کہ اتنا ہی کر لیا ہوتا مجھے کتاب سمجھ کر ہی پڑھ لیا ہوتا تمام عمر فقط ایک آرزو ہی رہی کیا تھا پیار تو پھر ٹوٹ کر کیا ہوتا یہ اور بات کہ میں تجھ سے دور ہوں لیکن میں تیرے پاس بھی ہوتا بھلا تو کیا ...

مزید پڑھیے

پھر اس کو دیکھنا جی بھر کے چاندنی کے سنگ (ردیف .. ا)

پھر اس کو دیکھنا جی بھر کے چاندنی کے سنگ پھر اس کے عکس پہ اک چاند کا گماں ہونا پھر اس کی جھیل سی آنکھوں میں ڈوبنا میرا اور اس کے ساتھ ہی برسات کا سماں ہونا اک ایک کر کے سجانا گلاب زلفوں میں پھر اس کے چہرے پہ سرخی سی اک عیاں ہونا ہیں دل میں خواہشیں اتنی کہ کیا کہیں اس سے نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

سانجھ سویرے پھرتے ہیں ہم جانے کس ویرانے میں

سانجھ سویرے پھرتے ہیں ہم جانے کس ویرانے میں ساون جیسی دھوپ لکھی ہے قسمت کے ہر خانے میں اس نے پیار کے سارے بندھن اک لمحے میں توڑ دئے جس کی خاطر رسوا ہیں ہم اس بے درد زمانے میں شب کی سیاہی اور بڑھے گی اور ستارے ٹوٹیں گے کچھ تو وقت لگے گا آخر نیا سویرا آنے میں کتنے پیپل سوکھ گئے ...

مزید پڑھیے

کبھی شام ہجر گزارتے کبھی زلف یار سنوارتے

کبھی شام ہجر گزارتے کبھی زلف یار سنوارتے کٹی عمر اپنی قفس قفس تری خوشبوؤں کو پکارتے نہ وہ مہ جبینوں کی ٹولیاں نہ وہ رنگ رنگ کی بولیاں نہ محبتوں کی وہ بازیاں کبھی جیتتے کبھی ہارتے وہ جو آرزوؤں کے خواب تھے وہ خیال تھے وہ سراب تھے سر دشت ایک بھی گل نہ تھا جسے آنسوؤں سے ...

مزید پڑھیے

عرصۂ عمر ملے وسعت ویراں میں مجھے

عرصۂ عمر ملے وسعت ویراں میں مجھے وقت لے آیا ہے پھر شورش طوفاں میں مجھے اب تو پیغام عطا ہو کوئی آزادی کا اب تو اک عمر ہوئی ہے ترے زنداں میں مجھے غم ٹپک پڑتا ہے کیوں آنکھ سے آنسو بن کر جب تری یاد ستائے شب ہجراں میں مجھے صفت کوہ گراں جم کے کھڑا ہوں لیکن راکھ ہو جانا ہے اک دن ترے ...

مزید پڑھیے

طلسم آتش غم آزمانے والا ہو

طلسم آتش غم آزمانے والا ہو چراغ کوئی تہ دل جلانے والا ہو ہم آ گئے ہیں جسے دیکھنے کو محفل میں عجب نہیں وہی آنکھیں چرانے والا ہو بہت سے لوگ سفر میں اکٹھے ہو جائیں کوئی قریب کوئی دور جانے والا ہو میں دیکھتا ہوں سر شام آسمان کو یوں کہ جیسے دور افق سے تو آنے والا ہو یہ کیا کہ ...

مزید پڑھیے

تری جدائی نے یہ کیا بنا دیا ہے مجھے

تری جدائی نے یہ کیا بنا دیا ہے مجھے میں ایک جسم تھا سایہ بنا دیا ہے مجھے سمندروں سے کوئی کم نہ تھی مری اوقات بس ایک درد نے صحرا بنا دیا ہے مجھے پرانے لوگ سمجھتے تھے کچھ نیا ہوں میں نئے دنوں نے پرانا بنا دیا ہے مجھے جو اس سے رشتہ تھا سب کو بتائے جاتا ہے گئے دنوں کا حوالہ بنا دیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3901 سے 6203