صورت ہے وہ ایسی کہ بھلائی نہیں جاتی
صورت ہے وہ ایسی کہ بھلائی نہیں جاتی روداد غم ہجر سنائی نہیں جاتی ہر صبح الم شام ستم کا ہے تسلسل کیا دل پہ گزرتی ہے بتائی نہیں جاتی کہتی ہے دلہن شام کی بالوں کو بکھیرے یوں نیند بھی آنکھوں سے اڑائی نہیں جاتی چاہت پہ کبھی بس نہیں چلتا ہے کسی کا لگ جاتی ہے یہ آگ لگائی نہیں ...