چھوڑیں گے گریباں کا نہ اک تار کبھی ہم
چھوڑیں گے گریباں کا نہ اک تار کبھی ہم بیٹھیں گے جنوں میں تو نہ بیکار کبھی ہم رہتے نہ اجازت کے طلب گار کبھی ہم ہوتے جو ترے طالب دیدار کبھی ہم پہنائے گا ہم کو وہ گل زخم کی بدھی پنہائیں گے قاتل کو جو اک ہار کبھی ہم دیوانہ نوازی ہے کہ سر کو دیئے پتھر چھوڑیں گے نہ اب دامن کہسار کبھی ...