نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئے
نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئے دے کے ایسی مجھے اعجاز کا دم بھول گئے چشم و ابرو کو ترے دیکھ کے آتا ہے خیال طاق کسریٰ پہ یہاں ساغر جم بھول گئے اے شہ حسن یہ قلمیں نہیں عارض پہ ترے کاتبان خط رخسار قلم بھول گئے وہ بھی کیا دن تھے کہ عاشق تھے تمہارے ہم بھی اب تو فریاد و فغاں درد و ...