قومی زبان

نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئے

نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئے دے کے ایسی مجھے اعجاز کا دم بھول گئے چشم و ابرو کو ترے دیکھ کے آتا ہے خیال طاق کسریٰ پہ یہاں ساغر جم بھول گئے اے شہ حسن یہ قلمیں نہیں عارض پہ ترے کاتبان خط رخسار قلم بھول گئے وہ بھی کیا دن تھے کہ عاشق تھے تمہارے ہم بھی اب تو فریاد و فغاں درد و ...

مزید پڑھیے

گزرا اپنا پس مردن ہی سہی

گزرا اپنا پس مردن ہی سہی کوچۂ یار میں مدفن ہی سہی خیر جو رنگ نہیں ہے تو نہ ہو تیغ کھینچو مری گردن ہی سہی قبر بلبل پہ چلوں رونے کو آج گلزار میں شیون ہی سہی بت تو واللہ بنا لیں گے کبھی شور ناقوس برہمن ہی سہی جوش وحشت ہے دلا نجد کو چل سیر کرنے کے لیے بن ہی سہی شمع تو یار چڑھاتا ہی ...

مزید پڑھیے

گریباں ہاتھ میں ہے پاؤں میں صحرا کا داماں ہے

گریباں ہاتھ میں ہے پاؤں میں صحرا کا داماں ہے بس اب پاؤں ہیں اپنے اور سر خار مغیلاں ہے ہوائے‌ دشت وحشت ہم کو لے اڑتی ہے بستی سے ہمارا عنصر خاکی مگر ریگ بیاباں ہے سبق کو دیکھتا ہوں رات بھر اور پھر الجھتا ہوں مطول مختصر وہ شرح شعر زلف پیچاں ہے جلاتا ہے یہ پروانوں کو وصف‌ شعلہ ...

مزید پڑھیے

ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولی

ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولی کیا حال ہے امسال یہ کیا رنگ ہے ہولی آئی ہے جو فرقت میں مرا خون کرے گی یہ بھی ترے آنے کا کوئی ڈھنگ ہے ہولی ہم خاک اڑاتے ہیں دھولینڈی ہے یہاں پر ہم تک نہیں آتی کبھی کیا لنگ ہے ہولی سو بار جلاتا ہوں میں اک آہ سے دم میں آ کر مرے ویرانے میں کیا تنگ ...

مزید پڑھیے

رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیں

رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیں ساتھ کے یار چلتے جاتے ہیں جن کی کرتے ہو تم مسیحائی وہ مریض اب سنبھلتے جاتے ہیں دل میں ہونے لگا حضور کا گھر آپ سانچے میں ڈھلتے جاتے ہیں زلف الجھتے ہے ان کے بالوں سے سانپ کا سر کچلتے جاتے ہیں شائق قتل کوئے قاتل میں کودتے اور اچھلتے جاتے ہیں دیکھتے ہیں ...

مزید پڑھیے

وہ زار ہوں کہ سر پہ گلستاں اٹھا لیا

وہ زار ہوں کہ سر پہ گلستاں اٹھا لیا وہ خار ہوں کہ پہلوے گل کو دبا لیا کیا مجھ سے چال چلتے وہ میں بھی ہوں چالیا کترا کے چل دیئے تھے کہ بندہ نے جا لیا کیا بات بوسۂ لب جاں بخش یار کے پنجے سے موت کے مجھے اس نے بچا لیا میں جیسے نالے کرتا ہوں ان کے خیال میں گائے تو اس طرح سے گویا ...

مزید پڑھیے

کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گے

کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گے تو دیر و حرم کیا ہے کہیں کے نہ رہیں گے نزدیک کبھی خلد بریں کے نہ رہیں گے ہم سایہ بھی اب ہم تو حسیں کے نہ رہیں گے میں صید ہوں وحشی مجھے فتراکی کہلوا دو تار بھی اب دامن ذہن کے نہ رہیں گے پر وائے وسیلہ ہو سلیماں کو مبارک ہم نام کو محتاج نگیں کے نہ ...

مزید پڑھیے

بہ خدا ہیں تری ہندو بت مے خوار آنکھیں

بہ خدا ہیں تری ہندو بت مے خوار آنکھیں نشہ کی ڈوری نہیں پہنے ہیں زنار آنکھیں چشم آہو سے غرض تھی نہ مجھے نرگس سے تیری آنکھوں سے جو ملتیں نہ یہ دو چار آنکھیں چار چشم اس لئے کہتا ہے مجھے اک عالم کہ مری آنکھوں میں پھرتی ہیں تری یار آنکھیں دیکھتے رہتے ہیں ہم راہ تمہاری صاحب آپ آتے ...

مزید پڑھیے

جو مہندی کا بٹنا ملا کیجئے گا

جو مہندی کا بٹنا ملا کیجئے گا پسینے کو عطر حنا کیجئے گا ستم کیجئے گا جفا کیجئے گا یہی ہوگا اور آپ کیا کیجئے گا پھڑک کر نکل جائے گا دم ہمارا قفس سے جو ہم کو رہا کیجئے گا جو کہتا ہوں اچھا نہیں ظلم کرنا تو کہتے ہیں وہ آپ کیا کیجئے گا قیامت میں دیدار کا کب یقیں ہے یوں ہی لن ترانی ...

مزید پڑھیے

ایذائیں اٹھائے ہوئے دکھ پاے ہوئے ہیں

ایذائیں اٹھائے ہوئے دکھ پاے ہوئے ہیں ہم دل سے بتنگ آئے ہیں اکتائے ہوئے ہیں بیتاب ہیں بے چین ہیں گھبرائے ہوئے ہیں ہم دل سے بتنگ آئے ہیں اکتائے ہوئے ہیں ان ہونٹھوں کے بوسے کا مزا پاے ہوئے ہیں پیار آیا ہے منہ تکتے ہیں للچائے ہوئے ہیں زلفیں وہ بلا جی کو جو الجھائے ہوئے ہیں جوڑے کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3894 سے 6203