آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھ
آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھ لب کو نسبت ہے مرے زمزمۂ داد کے ساتھ بس کہ ہے چشم مروت سے بھرا گریہ زار پڑا پھرتا ہے مرے نالہ و فریاد کے ساتھ یاد اس لطف حضوری کا کریں کیا حاصل آ پڑا کام فقط اب تو تری یاد کے ساتھ ظلم ہے حق میں ہمارے ترا اب ترک ستم دل کو ہے انس سا اک اس تری بیداد ...