قومی زبان

آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھ

آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھ لب کو نسبت ہے مرے زمزمۂ داد کے ساتھ بس کہ ہے چشم مروت سے بھرا گریہ زار پڑا پھرتا ہے مرے نالہ و فریاد کے ساتھ یاد اس لطف حضوری کا کریں کیا حاصل آ پڑا کام فقط اب تو تری یاد کے ساتھ ظلم ہے حق میں ہمارے ترا اب ترک ستم دل کو ہے انس سا اک اس تری بیداد ...

مزید پڑھیے

جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبر

جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبر جی ڈوبا دیتی ہے میرا یہ بہانے کی خبر اس چمن میں کون ہے دل سوز اپنا تجھ سوا رکھیو ٹک اے برق میرے آشیانے کی خبر پوچھتا نیں اپنے کوچے میں تو میرا حال ہائے لے تھی لیلیٰ دشت میں اپنے دوانے کی خبر ہیں قفس میں جب سے ہم اس سنگ دل صیاد کے اشک ہی لیتا ...

مزید پڑھیے

ان دونوں گھر کا خانہ خدا کون غیر ہے

ان دونوں گھر کا خانہ خدا کون غیر ہے شیخ حرم عبث تھے انکار دیر ہے اے یار بے خبر تو مری لے نہ لے خبر ورد زباں ترا ہی مجھے ذکر خیر ہے غیبت میں کیا تعلق اسے یاد سے مری کچھ کام اس کا اٹکا بھلا مجھ بغیر ہے پروا ہے کب اسے مرے رفع ملال سے گہہ شاغل شکار کبھی گشت سیر ہے بے وجہ کیا ہیں ہم سے ...

مزید پڑھیے

اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارا

اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارا اس کوچے میں کم ہی رہے گا کام ہمارا ہے سخت مرے درپئے جاں تیرا غم ہجر جاناں سے کہے جا کوئی پیغام ہمارا جاگیر میں ہے غیر کی وہ بوسۂ لب گو قائم رہے یہ منصب دشنام ہمارا ہونے نہیں پاتے یہ مرے دیدۂ تر خشک دولت سے تری تر ہے سدا جام ہمارا دو دن میں کسی ...

مزید پڑھیے

جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھنا

جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھنا کہتا ہے خط آئے پر ٹک تو ادھر دیکھنا بولا وہ ہنس کے کہ ہاں دیکھے ہیں تجھ سے بہت میں جو کہا ہے غرض مجھ کو مگر دیکھنا دیکھوں نہ وہ دن کہ میں منت احسان لوں شام مری اے فلک ہو نہ سحر دیکھنا روز وداع اس کو دیکھ اک دو نظر سیر ہو دیکھ لے پھر ہم کہاں اور ...

مزید پڑھیے

ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینا

ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینا اور سن کے تیرا اس کو ہنس ہنس کے ٹال دینا کر کر کے یاد اس کی بے حال ہوں نہایت فرصت ذرا تو مجھ کو تو اے خیال دینا اس زلف کج کے عقدے ہرگز کھلے نہ مجھ پر کیوں اس کو شانہ کر کے ایک ایک بال دینا میں مدعا کو اپنے محمل کہوں ہوں تجھ سے گوش دل اپنا ایدھر ...

مزید پڑھیے

دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرا

دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرا میری طرح نہ پھاڑے گریبان دوسرا یک رنگ ہوں میں اس گل رعنا کے عشق میں بلبل نہ ہوں کہ ڈھونڈوں گلستان دوسرا تھا ہی غم فراق ملا اس میں درد رشک مفلس کے گھر میں آیا یہ مہمان دوسرا تیری حیائے چشم سا دیکھا نہیں رقیب یاں احتیاج کیا ہے نگہبان دوسرا عریاں ...

مزید پڑھیے

اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویا

اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویا یہ سلسلۂ الفت کر یاد بہت رویا رحم اس کو نہ تھا ہرگز ہر چند بحال سگ اس کوچے میں میں کر کر فریاد بہت رویا مظلومی مری اور ظلم دیکھ اس بت کافر کا رحم آیا ستم کے تئیں بے داد بہت رویا دل غم سے نہ ہو خالی رونے سے مرا لیکن تا ہو مرے رونے سے وہ شاد بہت ...

مزید پڑھیے

چاہے سو ہمیں کر تو گنہ گار ہیں تیرے

چاہے سو ہمیں کر تو گنہ گار ہیں تیرے تقدیر تھی اپنی کہ گرفتار ہیں تیرے مرتے ہیں کبھی آ کے ہماری بھی خبر لے آہ اے بت بے درد یہ بیمار ہیں تیرے نقد دل و دیں مفت میں دے بیٹھیں گے آخر ہم عاشق مفلس کہ خریدار ہیں تیرے خواہش ہے نہ بوسے کی نہ آغوش سے مطلب دیدار کے یاں صرف طلب گار ہیں ...

مزید پڑھیے

عشق میں گل کے جو نالاں بلبل غم ناک ہے

عشق میں گل کے جو نالاں بلبل غم ناک ہے گل بھی اس کے غم میں دیکھو کیا گریباں چاک ہے داغ بر داغ اشک بر اشک اپنی چشم و دل میں ہیں کیا بلا گل خیز اے یارو یہ مشت خاک ہے اے خضر جاؤں کہاں میں کوچۂ مے خانہ چھوڑ خوش دلی کا مولد و منشا یہ خاک پاک ہے غرق سر تا پا ہوں بحر بیکران خوں میں میں آشنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3885 سے 6203